حال نیوز۔۔۔۔۔ترکیہ میں دہشتگردی مکمل ختم اور ایک نئے خوبصورت دور کا آغاز ہو چکا ہے، کرد مسئلے کے حل کے لیے تمام فریقوں کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، قید میں موجود کرد رہنما ء عبداللہ اوجلان کو پارلیمان سے خطاب کی اجازت دی جا سکتی ہے، ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا تھا کہ ترکیہ کرد باغی تشدد کے خاتمے کی کوششوں کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور اس عمل میں تمام فریقوں سے کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے اپنی حکمراں جماعت اے کے پارٹی کے ارکانِ پارلیمان سے خطاب میں انکشاف کیا کہ انہوں نے حال ہی میں کرد نواز ڈیم پارٹی کے رہنماؤں سے انتہائی تعمیری بات چیت کی ہے۔ ڈیم پارٹی نے تجویز دی ہے کہ جیل میں قید پی کے کے کے سربراہ عبداللہ اوجلان کو ایک پارلیمانی کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اسلحہ چھوڑنے کے عمل پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
ایردوان نے کہا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم ترکی کو دہشت گردی سے پاک کرنے کی راہ میں ایک نئے موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ ہر کسی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقوں کو سنا جانا چاہیے، چاہے ان کی رائے مختلف ہی کیوں نہ ہو۔ایردوان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ان کے قوم پرست اتحادی دیولت باہچلی نے ایک روز قبل تجویز دی تھی کہ سابق کرد رہنما صلاح الدین دمیرتاش کی رہائی ملک کے مفاد میں ہوگی۔
یاد رہے کہ ترکیہ میں موجودہ کر درہنماء دمیرتاش 2016 سے جیل میں قید ہیں۔ عبداللہ اوجلان 1999 سے جیل میں ہیں لیکن انہوں نے ماضی میں اپنے تنظیمی ساتھیوں کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ پی کے کے نے رواں سال اپنی عسکری سرگرمیوں کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ایردوان نے کہا اگر ہم تھوڑا سا مزید حوصلہ اور محنت دکھائیں، تو خدا کے فضل سے ہم اس عمل کو کامیابی سے مکمل کریں گے۔