سرکاری ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری، ملازمین کا درینہ مطالبہ پورا کر دیا گیا

حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔سرکاری ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری، وفاقی حکومت نے ملازمین کا درینہ مطالبہ پورا کر دیا گیا، وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے کرایہ داری سیلنگ میں 85 فیصد اضافہ، اضافہ یکم نومبر 2025 سے نافذ العمل ہوگا، بڑھتے کرایوں کے باعث ملازمین کے لیے رہائش کے مسائل میں کمی کی توقع ہے۔ وفاقی حکومت نے وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے کرایہ داری سیلنگ میں 85 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ وزارتِ ہاؤسنگ و ورکس نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اس فیصلے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جو یکم نومبر 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔وزارت کے مطابق، رہائشی مکانات کے حصول کے لیے کرایہ داری سیلنگ کی نئی شرح فنانس ڈویژن سے مشاورت کے بعد طے کی گئی ہے۔ اس سے قبل آخری بار کرایہ داری سیلنگ کی شرحیں 28 ستمبر 2021 کو منظور کی گئی تھیں۔

کرایہ داری سیلنگ میں اس حالیہ اضافے کے تحت وفاقی حکومت کے تمام ملازمین گریڈ 1 سے 22 تک کے لیے کرایہ داری سیلنگ میں 85 فیصد مجموعی اضافہ کیا گیا ہے۔ وزارتِ ہاؤسنگ و ورکس کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ دفاتر اور رہائشی مکانات کی فراہمی، قبضہ، حصول اور کرایہ پر لینا وزارت کے دائرہ کار میں آتا ہے، جیسا کہ رولز آف بزنس 1973 کے شیڈیول II، رول 3(3)، سیریل نمبر 14 میں درج ہے۔ یہ عمل ملک کے چھ بڑے شہروں اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں جاری ہے۔ وزارت کے مطابق، گذشتہ چند برسوں میں کرایوں میں تیز اضافے اور آبادی کے بڑھتے دباو کے باعث سرکاری ملازمین کے لیے مناسب رہائش کا حصول انتہائی مشکل ہو چکا تھا۔

وفاقی وزیر ہاؤسنگ میاں ریاض حسین پیر زادہ نے اس فیصلے کو سرکاری ملازمین کے لیے ایک اہم ریلیف قرار دیتے ہوئے کہا کہ“ملازمین کی فلاح و بہبود ہماری اولین ترجیح ہے۔ وزارت نے گذشتہ سال ہی اس حوالے سے کام کا آغاز کیا تھا اور بڑھتے ہوئے کرایوں کے دباؤ کا مکمل ادراک تھا۔”انہوں نے مزید کہا کہ کرایہ داری سیلنگ میں اس اضافے سے اسٹیٹ آفس پر بوجھ میں کمی آئے گی، خاص طور پر اسلام آباد میں، جہاں تقریباً 17,400 سرکاری رہائشی مکانات موجود ہیں جبکہ 43,000 سے زائد رجسٹرڈ درخواست گزار سرکاری رہائش کے منتظر ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.