پاکستان کی معاشی پالیسیاں درست سمت میں گامزن، عالمی اداروں کا اعتراف

حال نیوز۔۔۔۔۔۔پاکستان کی معاشی پالیسیاں درست سمت میں گامزن ہے، عالمی مالیاتی اداروں نے اعتراف کر لیا۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیز نے معاشی استحکام کا اعتراف کیا ہے،3سے 4سالوں میں ٹیکس اصلاحات کو جی ڈی پی کے 18فیصد پر لانا ہے جس میں صوبوں کا تعاون بھی شامل ہوگا۔ وراثت میں بہت مہنگی بجلی ملی اس کے باوجود گزشتہ 18ماہ میں بجلی کی قیمت میں ساڑھے 10روپے فی یونٹ تک کمی کی ہے۔  20وزارتیں رائٹ سائزنگ کے عمل سے گزر چکی ہیں، 54ہزار خالی اسامیاں ختم کردی گئیں‘ پاسکو ختم کیا جائے گا، راست سے ڈیجیٹل پیمنٹ آسان ہوا، لوگوں کو رقوم کی ادائیگی ومنتقلی کے لیے اب قطاروں میں کھڑا نہیں ہونا پڑے گا۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی اداروں کی پاکستان میں معاشی استحکام کیلئے پالیسیوں کو درست قرار دیا ہے

سینیٹر محمد اورنگزیب وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ٹیکس نیٹ میں اضافے،پنشن اصلاحات اور توانائی سمیت دیگر شعبوں میں اصلاحات لائی جارہی ہیں جس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے‘عالمی ریٹنگ ایجنسیز نے پاکستان کے معاشی استحکام کا اعتراف کیا ہے۔چیئرمین ایف بی آر ر کے مطابق ٹیکس اصلاحات میں وقت درکار ہوتا ہے‘ ہمیں اگلے 3سے 4سالوں میں ٹیکس اصلاحات کو جی ڈی پی کے 18فیصد پر لے جانا ہے جس میں صوبوں کا تعاون بھی شامل ہوگا۔اویس لغاری وزیر توانائی کے مطابق ہمیں وراثت میں بہت مہنگی بجلی ملی اور اس کی بہت ساری وجوہات تھیں جب کہ ہمارے ہاتھ ابھی بھی بندھے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود گزشتہ 18ماہ میں بجلی کی قیمت میں ساڑھے 10روپے فی یونٹ تک کمی کی ہے۔

سلمان احمد رائٹ سائزنگ کوآرڈینیٹر کے مطابق 20وزارتیں رائٹ سائزنگ کے عمل سے گزر چکی ہیں، 54ہزار خالی اسامیاں ختم کردی گئیں جب کہ پاسکو بہت نقصان میں چلنے والا ادارہ ہے اسے ختم کیا جائے گا۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ راست پیمنٹ سے ڈیجیٹل پیمنٹ کا مرحلہ آسان ہوا، لوگوں کو رقوم کی ادائیگی ومنتقلی کے لیے اب قطاروں میں کھڑا نہیں ہونا پڑے گا۔وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا حکومت کی معاشی ٹیم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بنیادی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں‘پائیدار معاشی استحکام کے لیے بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں‘ شرح سود میں کمی سے معیشت میں بہتری آرہی ہے‘ ملک میں معاشی استحکام آگیا ہے، ہم نے میکرو اکنامک استحکام سے متعلق اہم کام کیا ہے۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ہمارا ہدف پائیدار معاشی استحکام یقینی بنانا ہے، پائیدار معاشی استحکام کے لیے ریفارمز ناگزیر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت معیشت میں بنیادی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، عالمی ریٹنگ ایجنسیز نے پاکستان کے معاشی استحکام کا اعتراف کیا ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ بھی معاشی استحکام کی توثیق ہے وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق ہماری معاشی سمت درست ہے، پالیسی ریٹ میں کمی کے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے، ٹیکس نظام، توانائی سمیت دیگر شعبوں میں اصلاحات لائی جارہی ہیں اور پنشن اصلاحات، رائٹ سائزنگ بھی بنیادی اصلاحات کا حصہ ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ اس سال انکم ٹیکس گوشواروں میں 18فیصد اضافہ ہوا ہے اور، ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھ کر 59لاکھ ہوگئی ہے، ایف بی آر کو مزید ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں۔

انفرادی ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی شرح میں اضافہ ہوا، موثر اقدامات کے باعث ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا، ایف بی آر کو تمام اداروں کا تعاون حاصل ہے انہوں نے کہا کہ پہلی بار ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں 1.5فیصد اضافہ ہوا ہے، ٹیکس سے متعلق بجٹ میں منظور ہونے والے اقدامات پر عمل پیرا ہیں، وزیراعظم ٹیکس اصلاحات پر ہفتہ وار بنیادوں پر اجلاس کی صدارت کرتے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر ر کا کہنا تھا کہ ٹیکس اصلاحات میں وقت درکار ہوتا ہے‘ ہمیں اگلے 3سے 4سالوں میں ٹیکس اصلاحات کو جی ڈی پی کے 18فیصد پر لے جانا ہے جس میں صوبوں کا تعاون بھی شامل ہوگا اور اس میں وفاق کا تعاون 13.5فیصد جو ایف بی آر سے آئے گا اور 1.15فیصد پی ڈی ایل سے ملے گا، یعنی 15فیصد وفاق اور 3فیصد صوبوں سے آئے گا۔

وفاق کو اگلے 3سالوں میں 3.52فیصد اضافہ کرنا ہے لیکن صوبوں میں نے 2.15اضافہ کرنا ہے کیوں کہ صوبوں کی بیس.85ہے جس میں 2.15شامل کرنا بہت مشکل ہے، وفاق کے مقابلے میں جو اس وقت 10فیصد پر ہے اس پر 3.5فیصد اضافہ کرنا ہے ان کا کہنا تھا کہ میں نے جو اداروں کی تعاون کی بات کی تو اصل میں منشیات کے شعبے میں بہت بڑا گیپ تھا جب ہماری ٹیم ان کے پاس جاتی تھی تو ان کو ڈرایا اور دھمکایا جاتا تھا اور ابھی کوہاٹ ٹنل میں ہمارے 2لوگ شہید بھی ہوئے ہیں، اس لیے ہم لوگ ڈرتے بھی ہیں کیوں کہ ہمارا کام لڑنا نہیں ہے اور نہ ہماری ٹریننگ ویسے ہوتی ہے، ہمارا بنیادی کام ٹیکس کے قوانین کی پابندی کرنا یا ٹیکس کی ادائیگی کے اصولوں پر عمل کروانا ہے اور اب ہمیں رینجرز سمیت دیگر اداروں کی سپورٹ حاصل ہے جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ممکن ہورہا ہے۔

اویس لغاری وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ہمیں وراثت میں بہت مہنگی بجلی ملی اور اس کی بہت ساری وجوہات تھیں جب کہ ہمارے ہاتھ ابھی بھی بندھے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود گزشتہ 18ماہ میں بجلی کی قیمت میں ساڑھے 10روپے فی یونٹ تک کمی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں ہماری سرپلس پاور تھی، ہم نے 3مہینے کا پیکچ کیا اور انڈسٹری کو 26روپے فی یونٹ فراہم کرنا شروع کیا جب کہ ای وی کا ریٹ 71روپے سے کم کرکے 39روپے فی یونٹ پر لائے جب کہ انڈسٹریز کے لیے 16روپے فی یونٹ کمی کی گئی ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کررہے ہیں، توانائی کے شعبے میں تکنیکی مسائل کو حل کرکے اربوں روپے کی بچت کی، نقصان میں چلنے والے پیداواری یونٹس کی نیلامی کرکے 48ارب روپے کی بچت کی۔

محمد اورنگزیب وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں وزارت خزانہ نے ہماری بہت مدد کی، ہم نے 8سے 9مہینے کی جدوجہد کے بعد میں نے وزیر خزانہ سے کہا کہ ہمارے پاس 7ہزار میگا واٹ اضافی بجلی پڑی ہے، اسے میں بند الماری میں نہیں رکھ سکتا، اس لیے ان سے اجازت لی اور صارفین کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت اتنی ہی کردی ہے جتنے کی ہمیں مل رہی ہے ان کا کہنا تھا کہ 20سال سے ہر حکومت جو کوشش کررہی تھی وہ اس کابینہ نے کردکھایا یعنی حکومت اب بجلی نہیں خریدے گی وہ اس کاروبار سے باہر آچکی ہے، لوگوں کو آپس میں بجلی خرید و فروخت کرنی پڑے گی جس سے انہیں بہترین قیمتیں ملیں گی، پاکستان کی توانائی کے شعبے میں اس سے بڑا ریفارمز نہ آسکتا ہے اور نہ کبھی آئے گا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.