حکومت بلوچستان نے نو عمر قیدیوں کے لئے الگ جیل کی منظوری دیدی

حال نیوز۔۔۔۔۔۔حکومت بلوچستان نے نو عمر قیدیوں کے لئے الگ جیل کی منظوری دیدی۔ اب نو عمر قیدیوں کو الگ جیل میں رکھا جائے گا۔ جیل کی تعمیر پر75کروڑ کی لاگت آئے گی۔ سریاب روڈ پر عارضی مرکز قائم، جدید اصلاحی جیل میں تعلیم، ہنر، اور کونسلنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ بلوچستان حکومت نے نوعمر قیدیوں کے تحفظ، بحالی اور اصلاح کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں نوعمر قیدیوں کے لیے الگ ماڈل جیل کی منظوری دے دی ہے۔

منصوبہ محکمہ جیل خانہ جات بلوچستان کی سفارش پر منظور کیا گیا، جس کا مقصد نوعمر قیدیوں کو بالغ مجرموں کے اثرات سے محفوظ رکھ کر انہیں بہتر تعلیمی، نفسیاتی اور فنی تربیت کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ترجمان محکمہ جیل خانہ جات بلوچستان کا کہنا تھا کہ ماڈل جیل کی تعمیر پر 75کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ جیل میں جدید اسکول، پیشہ ورانہ تربیت کا مرکز، کونسلنگ یونٹس اور تفریحی سہولیات شامل ہوں گی۔

نو عمر قیدیوں کیلئے جیل کی عمارت سینٹرل جیل کوئٹہ کے قریب تعمیر کی جائے گی تاکہ سیکیورٹی اور انتظامی امور بہتر طریقے سے سرانجام دیے جا سکیں۔ترجمان کے مطابق جب تک یہ عمارت مکمل نہیں ہوتی، سریاب روڈ پر ایک عارضی مرکز قائم کر دیا گیا ہے جہاں فوری طور پر نو عمر قیدیوں کو منتقل کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد نوعمر قیدیوں کو بالغ قیدیوں کے ساتھ رکھنے سے پیدا ہونے والے ذہنی اور اخلاقی نقصانات سے بچانا ہے۔

ترجمان محکمہ جیل خانہ جات کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ اصلاحات پر مبنی جیل نظام کی جانب ایک بڑا قدم ہے، جو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے معیارات اور بچوں کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی کنونشن سے مطابقت رکھتا ہے۔سول سوسائٹی، ماہرین تعلیم اور انسانی حقوق کے کارکنان نے اس اقدام کو بلوچستان حکومت کا انسان دوست فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم نوعمر قیدیوں کی اصلاح، تعلیم اور بہتر مستقبل کی ضمانت بنے گا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.