حال نیوز۔۔۔۔۔۔ شفافیت اور بہتر گورننس کے ذریعے پی ایس ایل کو مضبوط بنایا جائے، علی ترین نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو خط لکھ دیا،پی ایس ایل ٹورنامنٹ کو مزید مضبوط اور شفاف بنانے کیلئے تجاویز پیش کیں۔ پی ایس ایل میں اعلیٰ علاقائی ٹیلنٹ کو راغب کرنے کی صلاحیت ہے، صرف پی سی بی کے موجودہ یا سابق ملازمین پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان سپر لیگ فرنچائز ملتان سلطانز نے پی سی بی چیئرمین کو خط لکھا ہے جس میں ٹورنامنٹ کو مزید مضبوط اور شفاف بنانے کیلئے تجاویز پیش کی ہیں۔
علی خان ترین نے محسن نقوی کو لکھے گئے خط میں مضبوط اور مزید شفاف پی ایس ایل کے لیے اصلاحات تجاویز دی ہیں، تجاویز کا مقصد شفافیت اور بہتر گورننس کے ذریعے پی ایس ایل کو مضبوط بنانا ہے۔علی خان ترین کی جانب سے چیئرمین پی سی بی کو لکھے گئے خط میں لیگ کیلئے فرنچائز کی دیرینہ وابستگی کا اعادہ کیا گیا اور ایڈہاک فیصلہ سازی اور محدود انتظامی تجربے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا۔ملتان سلطانز کے مالک کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس میں فرنچائز کی نمائندگی ہونی چاہیے، پاکستان سپر لیگ کے اہم رول کے لیے منظم خدمات حاصل کرنا ضروری ہے۔
علی ترین کا کہنا تھا کہ میرٹ کی بنیاد پر بھرتی اور پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانے کے لیے ہر رول کی وضاحت، امیدواروں کی جانچ اور انتخاب سے پہلے ان پٹ فراہم کرنے میں فرنچائزز کی شرکت ضروری ہونی چاہیے۔خط میں کہا گیا کہ پی ایس ایل میں اعلیٰ علاقائی ٹیلنٹ کو راغب کرنے کی صلاحیت ہے اور اسے صرف پی سی بی کے موجودہ یا سابق ملازمین پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔کہا گیا کہ آپریشنز، مارکیٹنگ، مداحوں کی سرگرمیوں، کھلاڑیوں کے معاملات، اور مالی امور کے لیے ایک اہل ایگزیکٹیو ٹیم قیادت کرے۔علی ترین کا کہنا تھا کہ طے شدہ تاریخوں پر ماہانہ میٹنگز ایجنڈے کے ساتھ پہلے سے مطلع کی جائیں، منٹس ریکارڈ کیے جائیں اور شیئر کیے جائیں۔
علی ترین کے مطابق یہ تجویز منظم شراکت داری پر زور دیتی ہے اور عالمی سطح پر اس مقبول لیگ کی تعمیر کے مشترکہ مقصد کے تحت تمام اسٹیک ہولڈرز کی صف بندی پر زور دیتی ہے۔خط کے آخر میں کہا گیا کہ ایک کامیاب دہائی کے بعد پی ایس ایل کو اگلے درجے تک لے جانے کا وقت آگیا ہے۔اس سے قبل، ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے پاکستان کرکٹ بورڈ (بی سی بی)کے قانونی نوٹس اور معافی مانگنے کے مطالبے کے پرخچے اڑا دیے تھے۔ملتان سلطانز کے نوجوان مالک نے پی سی بی کے مطالبے پر سرعام معافی تو مانگ لی مگر اس سے معاملہ مزید بگڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔