حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔مستونگ کے علاقے سے نامعلوم مسلح افراد نے 9 مزدوروں کو اغواء کر لیا جبکہ مغوی ڈی ایس پی محمد یوسف ریکی کو اغواء کاروں نے شہید کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق مستونگ دشت میں اسپلنجی روڈ پر سیاہ پشت کے مقام سے 9 مزدوروں کو مسلح افراد نے اغوا کرلیا گیا ہے۔دشت لیویز تھانے کے ایس ایچ کا کہنا تھا کہ مطابق واقعہ تین روز قبل پیش آیا۔ مزدور چوکیوں کی تعمیر کا کام کررہے تھے جب نامعلوم مسلح افراد نے انہیں اغوا کیا۔ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ مزدوروں میں 4مقامی جبکہ 5سندھی مزدور شامل ہیں، ایک مقامی مزدور کو بعد ازاں اغوا کاروں نے چھوڑ دیا اور باقیوں کو نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔ان کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ اب تک درج نہیں کیا گیا کیونکہ متعلقہ ٹھیکیدار اور حکام نے اب تک درخواست نہیں دی۔
کردگاپ کے علاقے سے اغوا ہونے والے پولیس افسر کو قتل کردیا گیا۔مستونگ سے چند روز پہلے اغوا ہونیوالے ایس ڈی پی او نوشکی محمد یوسف ریکی کی لاش مستونگ کے علاقے کردگاپ میں گرگینہ کلی شربت خان سے برآمد ہو گئی ہے۔ ایس ایچ او کردگاپ تھانہ غلام سرور کے مطابق مقتول ڈی ایس پی محمد یوسف ریکی کو سر اور جسم کے مختلف حصوں میں گولیاں ماری گئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ لاش کو قانونی کارروائی کے لیے کوئٹہ منتقل کیا کردیاگیا۔ مقتول ڈی ایس پی محمد یوسف ریکی نوشکی میں بطور سب ڈویژنل پولیس افسر تعینات تھے۔ انہیں پانچ روز قبل نوشکی سے براستہ مستونگ سوراب اپنے گھر جاتے ہوئے کردگاپ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی سمیت اغوا کرلیا تھا۔اغوا سے چند لمحے قبل محمد یوسف ریکی نے اپنی اہلیہ کو فون کرکے بتایا تھا کہ انہیں مسلح افراد نے روک لیا ہے۔ اس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
مستونگ کے گردکاپ میں شہید کیے جانے والے شہید ڈی ایس پی محمد یوسف ریکی کی نماز جنازہ فیاض سنبل پولیس لائنز کوئٹہ میں ادا کی۔
نماز جنازہ میں جعفرخان مندوخیل گورنربلوچستان، کمانڈر 12کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان، صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو، اور دیگر سول و ملٹری افسران کی ایک تعداد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کے بعد شہید ڈی ایس پی کی میت ان کے آبائی علاقے پہنچائی جائیگی۔ جعفرخان مندوخیل گورنر بلوچستان نے نماز جنازہ میں موجود شہید ڈی ایس پی کے بیٹے اور بھائی کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔