عبدالصمد، بابر اعظم اور نسیم شاہ کی بھی ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل ٹیم میں واپسی ہوئی ہے جبکہ محمد حارث اور خوشدل شاہ ٹی ٹونٹی ٹیم میں جگہ برقرار نہیں رکھ سکے، اسی طرح فیصل اکرم، حارث رؤف اور حسیب اللہ ون ڈے اسکواڈ میں واپسی ہوئی ہے۔ٹی ٹونٹی سکواڈ میں سلمان علی آغا (کپتان)، عبدالصمد، ابرار احمد، بابر اعظم، فہیم اشرف، حسن نواز، محمد نواز، محمد وسیم جونیئر، محمد سلمان مرزا، نسیم شاہ، صاحبزادہ فرحان (وکٹ کیپر)، صائم ایوب، شاہین شاہ آفریدی، عثمان خان (وکٹ کیپر) اور عثمان طارق شامل ہیں۔ٹی ٹونٹی اسکواڈ کے ریزرو کھلاڑیوں میں فخر زمان، حارث رؤف اور سفیان مقیم شامل ہیں۔
ون ڈے اسکواڈ میں شاہین شاہ آفریدی (کپتان)، ابرار احمد، بابر اعظم، فہیم اشرف، فیصل اکرم، فخر زمان، حارث رؤف، حسیب اللہ، حسن نواز، حسین طلعت، محمد نواز، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، محمد وسیم جونیئر، نسیم شاہ، صائم ایوب، سلمان علی آغا شامل ہیں۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل سیریز 28اکتوبر سے یکم نومبر تک کھیلی جائے گی جبکہ جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز فیصل آباد میں 4سے 8 نومبر تک کھیلی جائے گی۔اس کے بعد پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ون ڈے انٹرنیشنل سیریز 11سے 15 نومبر تک راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلی جائے گی۔سری لنکا اور زمبابوے کے ساتھ ٹی ٹونٹی ٹرائی سیریز 17سے 29 نومبر تک راولپنڈی اور لاہور میں کھیلی جائے گی۔
راشد لطیف سابق کپتان کا کہنا تھا کہ ہمارے نئے کھلاڑی نظر نہیں آ رہے، ہم نے اتنے کپ کھیلے مگر نئے کھلاڑی جو تیار کیے وہ کہاں گئے؟راشد لطیف نے متعدد کھلاڑیوں کی سلیکشن پر سوال اٹھائے اور کہا کہ یہ ٹیم ٹھیک نہیں ہے، بابر اعظم نے جب میچز کھیلے ہی نہیں تو وہ کیسے اسکواڈ کا حصہ بن گئے؟ محمد وسیم جونیئر تھے وہ کیسے ٹیم میں آ گئے؟ دوسری جانب عبدالماجد بھٹی نے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بابر اعظم کو فخر زمان کی جگہ دی جائے گی کیونکہ فخر زمان ریزَرو کھلاڑیوں میں شامل کیے گئے ہیں۔اِن کا کہنا تھا کہ جب پنڈی ٹیسٹ اتنے اہم موڑ پر کھڑا ہے تو سلیکشن ٹیم کو تھوڑا صبر سے کام لینا چاہیے تھا اور اسکواڈز کا اعلان شام میں کرنا چاہیے تھا، شام میں اعلان ہوتا تو تصویر تھوڑی بہتر طور پر دکھائی دیتی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم آسان ٹیم نہیں۔ بابر اور نسیم کا اسکواڈز میں شامل ہونا سمجھ سے بالا تر ہے۔