حال نیوز۔۔۔۔۔۔پاکستان کو اپنے گھر میں بدترین شکست، ساؤتھ افریقہ نے دوسرا ٹیسٹ میچ جیت لیا۔ راولپنڈی ٹیسٹ میں پاکستان کے بیٹر اور بولر دونوں ناکام ہو گئے،جنوبی افریقہ نے پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست دیکر سیریز برابر کردی۔ پاکستان ٹیم دوسری اننگز میں صرف 138 رنز پر ڈھیر ہوگئی، جنوبی افریقہ نے 68 رنز کا ہدف 2 وکٹوں پر حاصل کرلیا۔ 9 وکٹیں لینے والے کیشو مہاراج کو مین آف دی میچ،سینوران متھوسوامے کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا،تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقہ نے دوسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز ایک ایک سے برابر کردی، پاکستانی ٹیم دوسری اننگز میں صرف 138رنز پر ڈھیر ہوگئی اور 68رنز کا ہدف دیا جو مہمان ٹیم نے 68 رنز کا ہدف 2 وکٹوں پر حاصل کرلیا 9 وکٹیں لینے والے کیشو مہاراج کو میچ،سینوران متھوسوامے کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا، یہ جنوبی افریقا کی پاکستانی سرزمین پر ٹیسٹ کرکٹ میں 2007 کے بعد پہلی فتح ہے۔
پاکستان ٹیم نے چوتھے روز صرف 44 رنز بنائے اور 6 وکٹیں گنوائیں،گزشتہ روز49رنز بنانے والے بابر اعظم بھی ایک رن کا اضافہ کر سکے اور نصف سنچری بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے،بابر اعظم کے سوا کوئی بلے باز قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھا سکا، بابر اعظم 96 کے مجموعی اسکور پر سائمن ہرمر کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوگئے۔105 کے مجموعی اسکور پر 18 رنز بنانے والے محمد رضوان بھی سائمن ہرمر کا شکار بنے اور ٹونی ڈی زورزی نے کیچ تھام کر انہیں پویلین کی راہ دکھائی، اس کے بعد آنے والے نعمان علی بھی کھاتہ کھولے بغیر سائمن ہرمر کی ہی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔شاہین شاہ آفریدی بھی کھاتہ کھولے بغیر غیر ضروری رن لینے کی کوشش میں ریکلٹن کے ہاتھوں رن آؤٹ ہوگئے۔ساجد خان کے ساتھ 24 رنز کی شراکت قائم کرکے ٹیم کی آخری امید بننے والے سلمان علی آغا 28 رنز بناکر مہاراج کی گیند پر کٹ شاٹ کھیلتے ہوئے بولڈ ہوگئے، ساجد خان 13 رنز بنانے کے بعد کیشو مہاراج کی گیند پر اسٹمپ ہوگئے۔
پاکستان نے میچ کے چوتھے روز دوسری اننگز میں 6 وکٹیں گنوائیں اور صرف 44 بنائے، اس سے قبل گزشتہ روز پہلی اننگز میں جنوبی افریقہ کی 71 رنز کی برتری کے بعد دوسری اننگز میں پاکستان کا ٹاپ آرڈر مکمل طور پر ناکام نظر آیا، صرف 16 کے مجموعے پر قومی ٹیم کے 3 کھلاڑی پویلین واپس لوٹ چکے تھے، امام الحق 9، عبداللہ شفیق 6 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، کپتان شان مسعود کھاتا بھی کھول نہ سکے جبکہ مڈل آرڈر بیٹر سعود شکیل 11 رنز بنا کر واپس لوٹے تھے۔جنوبی افریقہ کی جانب سے سائمن ہرمن نے 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔میچ کے چوتھے روز جنوبی افریقہ نے دوسری اننگز میں 68 رنز کے آسان ہدف کے تعاقب میں جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا، ایڈن مارکرم نے 8 چوکوں کی مدد سے 45 گیندوں پر 42 رنز کی اننگز کھیلی تاہم جیت کے نزدیک پہنچ کر نعمان علی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوگئے۔
پہلی اننگز میں نصف سنچری اسکور کرنے والے ٹرسٹن اسٹربز دوسری اننگز میں کھاتا کھولے بغیر نعمان علی کی گیند پر سلمان علی آغا کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے، تاہم ساجد خان کے اگلے اوور میں ریان ریکلٹن نے چھکا مار کر ٹیم کو جیت سے ہمکنار کردیا، انہوں نے 25 رنز کی ناقابل شکست اننگ کھیلی۔پاکستان ٹیم نے چوتھے روز صرف 44 رنز بنائے اور 6 وکٹیں گنوادیں، نصف سنچری بنانے والے بابر اعظم کے علاوہ کوئی بلے باز قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکا، جنوبی افریقہ کی جانب سے سائمن ہرمن نے 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔سائمن ہرمر نے دوسری اننگز میں 6 وکٹیں حاصل کیں جبکہ کیشو مہاراج نے 2 اور کگیسو ربادا نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔جنوبی افریقہ نے پہلی اننگز میں پاکستان کے 333 رنز کے جواب میں ٹرسٹن اسٹربز، ٹونی ڈی زورزی اور سینوران متھوسوامے اور کگیسو ربادا کی نصف سنچریز کی بدولت 404 رنز بنائے تھے اور پاکستان پر 71 رنز کی برتری حاصل کرلی تھی۔ پاکستان کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے فیصل نے 6 وکٹیں حاصل کی تھی جبکہ نعمان علی نے 2 اور شاہین شاہ آفریدی اور ساجد خان نے ایک ایک وکٹ حاصل کی تھی۔