حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے ٹھکرائی گئی بلٹ پروف گاڑیاں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مانگ لیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کی جانب سے مذکورہ گاڑیوں کو ناقص اور پرانی کہا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق میر سرفراز بگٹی وزیر اعلی بلوچستان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی طرح بلوچستان بھی دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہے اور صوبے کو امن و امان کے قیام کے لیے جدید حفاظتی سازوسامان کی اشد ضرورت ہے اگر خیبرپختونخوا حکومت وفاق کی جانب سے فراہم کردہ بلٹ پروف گاڑیاں لینے سے انکار کر رہی ہے تو وہ گاڑیاں بلوچستان حکومت کے حوالے کی جائیں تاکہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان ایک مشکل سکیورٹی صورتحال سے گزر رہا ہے جہاں پولیس، لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تحفظ کے لیے روزانہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں صوبے کو ہر ممکن سہولت اور حفاظتی وسائل فراہم کرنا ناگزیر ہے تاکہ دہشت گردی کے خطرات کا مو ثر طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔ حکومت بلوچستان عوامی جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور اس مقصد کے لیے سکیورٹی اداروں کی استعداد کار بڑھانے، جدید سازوسامان فراہم کرنے اور فوری ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بنانے پر کام جاری ہے میر سرفراز بگٹی کے مطابق صوبے میں قیام امن کے لیے وفاق اور صوبے کے تمام ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔
محسن نقوی وفاقی وزیر داخلہ نے میر سرفراز بگٹی وزیراعلی بلوچستان کی درخواست پر فوری ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا کہ خیبرپختونخوا سے واپس آنے والی بلٹ پروف گاڑیاں بلوچستان کو فراہم کی جائیں گی۔واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلی سہیل آفریدی نے وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے پولیس کو دی گئی ناقص اور پرانی بلٹ پروف گاڑیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پولیس کی تضحیک ہے اور انہیں واپس کیا جائے، تاکہ پولیس اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ اقدام صوبے میں امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف مثر کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔