ایران کا امریکی صدر ٹرمپ کو دو ٹوک جواب، مذاکرات سے انکار کر دیا

حال نیوز۔۔۔۔۔۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو ٹوک جواب دے دیا، جوہری مذاکرات کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی پیشکش کو سپریم لیڈر ایران آیت اللہ علی خامنہ ای نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔خامنہ ای نے ٹرمپ کے اس دعوے کو بھی رد کر دیا کہ امریکا نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے، اور کہا کہ امریکی صدر کہتے ہیں کہ انہوں نے ایران کی جوہری صنعت تباہ کر دی، بہت خوب، خواب دیکھتے رہیں۔

ایران کے سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی معاہدہ دبا ؤاور زبردستی کے تحت ہو تو وہ ڈیل نہیں بلکہ غنڈہ گردی ہے۔گزشتہ ہفتے اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے آغاز کے بعد ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر واشنگٹن تہران کے ساتھ امن معاہدہ کر لے تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ تاہم خامنہ ای نے امریکی دعوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے جوہری معاملات میں امریکا کی مداخلت غلط، نامناسب اور جابرانہ ہے۔ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن توانائی کے حصول کے لیے ہے جبکہ مغربی طاقتیں تہران پر خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام عائد کرتی ہیں، جسے ایران سختی سے رد کرتا ہے۔

کشیدگی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ایران نے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA)کے ساتھ تعاون کا معاہدہ باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے ریاستی میڈیا کے ذریعے اعلان کیا کہ یہ فیصلہ تہران پر مسلسل دبا کے جواب میں کیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق ایران کا یہ اقدام عالمی سطح پر جوہری کشیدگی میں اضافے اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں مزید تنا کا باعث بن سکتا ہے۔

ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق حالیہ کشیدگی کے باوجود اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکا کے ساتھ اس کے بالواسطہ مذاکرات مکمل طور پر بند نہیں ہوئے بلکہ ایران کے مفادات سے مشروط ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق یہ بات ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے گزشتہ روز اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران کہی۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کسی نئے مذاکراتی مرحلے کی دہلیز پر نہیں ہیں۔ تاہم انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بالواسطہ بات چیت رکی نہیں بلکہ ایران کے مفادات سے مشروط ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایران اور دیگر فریقین کے درمیان بالواسطہ رابطے پہلے کی طرح جاری ہیں اور ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ ایران کا جوہری معاملہ درحقیقت کوئی عالمی تنازع نہیں بلکہ اسے یورپی ممالک (فرانس، جرمنی، برطانیہ)اور امریکا کے اصرار پر اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے میں شامل کیا گیا۔انھوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانیوں کو پر امن جوہری توانائی کے استعمال کا بنیادی حق حاصل ہے۔ یہ حق ایران کی جوہری اسلحہ کے عدم پھیلا کے معاہدے (این پی ٹی)کی رکنیت کے سبب حاصل ہے۔ یہ کوئی ایسا امتیاز نہیں جو دوسروں کی طرف سے دیا یا تسلیم کیا جائے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.