حال نیوز۔۔۔۔۔پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء و وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی نے افغان مہاجرین کے حوالے سے انتہائی اہم بیان دے دیا۔ حنیف عباسی وفاقی وزیر برائے ریلوے کا کہنا تھا کہ اب پاکستان میں نہ کسی افغانی کی جائیداد رہے گی نہ کوئی افغانی یہاں رہے گا۔ریاست نے فیصلہ کرلیا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ان کے گھروں میں نشانہ بنایا جائے گا۔ میں کابل گیا ہر جگہ پہ بندوق تھی بندوق کی نوک پر آپ کب تک کابل میں حکومت کریں گے؟۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے لیکن امن کی خواہش کو کچھ لوگ کمزوری سمجھنے لگے تھے لیکن اب ریاست نے فیصلہ کرلیا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ان کے گھروں میں نشانہ بنایا جائے گا اب پاکستان میں نہ کسی افغانی کی جائیداد رہے گی نہ کوئی افغانی یہاں رہے گا۔
حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بار بار دہشتگردی پر افغانستان کو دفتر خارجہ کے ذریعے 800 سے زائد مرتبہ احتجاج ریکارڈ کرایا گیا 40 سے زیادہ ڈیلیگیشن افغانستان بھیجے گئے مگر کوئی اثر نہیں ہوا حالانکہ معرکہ حق میں پاکستان کو دنیا بھر میں اللہ تعالیٰ نے جو عزت دی ہے اسکے بعد ہم نے بار بار افغانستان کو سمجھایا لیکن سمجھانے کے باوجود یہ اس وقت بات چیت پر آئے جب پاکستان نے دہشتگردانہ کاروائیوں کا دلیرانہ اور موثر انداز میں جواب دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان کے اندر ان دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جب ہم نے قندھار اور کابل میں جا کر ان دہشت گردوں کو مارا تب یہ بات چیت پر آئے۔ ہم ہر اس شخص کا پیچھا کریں گے جو پاکستان میں ہمارے شہدا اور ہمارے شہریوں کا قاتل ہے ہماری پولیس کا قاتل ہے ایسا ناسور جہاں ہوگا اسے وہاں نشانہ بنایا جائے گا۔
وفاقی وزیر برائے ریلوے کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنا موقف بار بار دہرایا کہ ہم پرامن ملک ہیں ہم امن چاہتے ہیں ہم تجارت چاہتے ہیں لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ بندوق کی نوک پر پاکستان کو بلیک میل کر سکتا ہے ڈرا سکتا ہے وہ افغانستان کا حشر دیکھ لے‘ افغانستان کی ایران کے ساتھ ٹریڈ بند ہو چکی ہے ہمارے ساتھ بند ہو چکی ہے تو یہ سوچ لیں یہ کھائیں گے کیسے اور پہنیں گے کیا؟ اب ضروری ہے کہ تجارت کی طرف آئیں ٹریڈ کی طرف آئیں یہ فیصلہ افغانستان نے کرنا ہے میں کابل میں گیا ہر جگہ پہ بندوق تھی بندوق کی نوک پر آپ کب تک کابل میں حکومت کریں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ خوارج کا جو کوئی بھی سہولت کار ہوگا اسے انجام بھگتنا ہوگا فیصلہ ہو گیا ہے خیبر پختونخوا کی پہلی حکومت بھی سہولت کار تھی اور خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت بھی ان کی سہولت کار ہے تحریک انصاف کا سابق چیئرمین یہ کہتا ہے کہ ملکی سلامتی کی صورتحال پر مجھے رہا کیا جائے یہ ہر گز ممکن نہیں ہو گا۔
حنیف عباسی کے مطابق پاکستان میں انارکی پیدا ہوگی دہشت گردی پیدا ہوگی تو یہ باہر آکر کہے گا وہ امن لے آیا بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو لا کر پاکستان میں کس نے بسایا پوری دنیا کو بتائیں نا دہشت گردوں کو بھائی کس نے کہا ان افغان بھائیوں کو ہم نے یہاں لا کر بسایا سینے سے لگایا اس کا انہوں نے کیا صلہ دیا پوری دنیا نے دیکھا آپ نے دیکھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے کرکٹ میچ کے دوران جو انہوں نے کیا پاکستانی پرچم کی بے حرمتی کی گئی انہوں نے کبھی بھی پاکستان کو تسلیم نہیں کیا 1947 سے لے کر اب تک بادشاہ داؤد نے ہمیں نہیں تسلیم کیا کرزئی نے نہ اشرف غنی نے ہمیں تسلیم کیا یہ جو متقی ہے اس نے ہندوستان کی گود میں بیٹھ کر چند ٹکے اور پانچ ایمبولنس لیکر ان سے مل گئے 13 لوگ ہیں جو ہر ماہ ہندوستان سے کروڑوں ڈال لیتے ہیں یہ ہندوستان سے کہتا ہے کہ میں نو سال کی عمر میں پاکستان آیا اس کے بھائی کی اربوں روپے کی جائیدادیں ہیں یہاں پہ یاد رکھیں اب پاکستان میں کسی افغانی کی نہ جائیداد رہے گی وہ یہاں رہیگا ہاں اگر کسی نے آنا ہے تو ویزا لے کر آئے گا۔