اسرائیل تمام آداب بھول گیا، جنگ بندی کی درجنوں بار خلاف ورزیاں

حال نیوز۔۔۔۔۔۔اسرائیل تمام آداب بھول گیا، اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی درجنوں بار خلاف ورزیاں کی گئی۔ فلسطین اسرائیل جنگی بندی کے بعد اسرائیلی حملوں میں 97فلسطینی شہید اور 230زخمی ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے دعوی کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ امن معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد سے لے کر اب تک جنگ بندی کی 80بار خلاف ورزیاں کی ہیں۔

فلسطین حکام کا کہنا ہے کہ 10اکتوبر سے لے کر اب تک اسرائیلی حملوں میں 97فلسطینی شہید اور 230زخمی ہوئے ہیں۔اسرائیلی فورسز کی کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اسرائیلی اقدامات اس کے جارحانہ رویے اور خون خرابے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔اسرائیلی فوج کی جانب سے حملوں کو حماس کی جانب سے مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا ردِعمل قرار دیا گیا ہے تاہم حماس نے اِن الزامات کی تردید کی ہے۔

اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر طوباس میں فلسطینیوں کے رہائشی اپارٹمنٹس کو نذر آتش کر دیا۔ یہ کارروائی اسرائیلی ریاست کی فوج نے کی ہے۔ جب اس علاقے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا مسلسل دوسرا روز تھا۔اسرائیلی ریاست کی فوج نے اپارٹمنٹس پر دھاوا بولا اور یہاں کے رہنے والوں کو زبردستی نکال باہر کیا، بارود لگا کر اپارٹمنٹ کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے کی آواز شہر کے تمام علاقوں میں سنی گئی۔

اسرائیلی فورسز نے طوباس کے بڑے چوراہے پر بلڈوزرز سے کئی املاک کو مسمار کر دیا اور کئی نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔ اس دوران فلسطینیوں کے گھروں کو اپنی پوسٹوں میں تبدیل کر دیا اور فلسطینیوں سے جبری طور پر ان کے گھر خالی کرا دیے۔اسرائیلی ریاست کی فوج نے شہر کے جنوبی داخلے راستے کو بند کر دیا اور متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کر کے تفتیشی عقوبت خانوں میں بند کر دیا۔

اسرائیلی وزیردفاع نے دھمکی دی کہ حماس کو ایک بار پھر سبق سکھایا جائیگا، وزیردفاع کا کہنا تھا کہ انہوں نے فوج کو اسرائیلی شہریوں کی حفاظت کے احکامات دے دیے۔اسرائیلی وزیردفاع نے حماس پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ حماس کو معاہدے کی خلاف ورزی کا بھاری خمیازہ چکانا پڑیگا۔کاٹز کا کہنا تھا کہ حماس نے کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا تو فوجی حملوں کی شدت میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.