قطر اور ترکیہ کی ثالثی، پاکستان اور افغانستان جنگ بندی پر راضی ہو گئے

حال نیوز۔۔۔۔۔خطے میں جاری کشیدگی کے باعث ترکیہ اور قطر میدان میں آ گئے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری جنگ میں ثالثی کرادی۔ دونوں ممالک جنگ بندی پر راضی ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان اور پاکستان جنگ بندی پر راضی ہوگئے ہیں، جنگ بندی کا فیصلہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ہوا۔قطر کی وزارت خارجہ نے اس کا اعلان کیا جبکہ خواجہ آصف وزیر دفاع نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ہمسایہ ملک ایک دوسرے کی سرزمین کا احترام کریں گے۔

قطر کے شہر دوحہ میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں، مذاکرات کی میزبانی قطر اور ترکیہ نے ثالثی کی، مذاکرات 13گھنٹے تک جاری رہے جن میں جنگ بندی پر اتفاق کر لیا گیا۔قطر میں ہونے والے مذاکرات کیلئے پاکستانی وفد کے سربراہ خواجہ آصف نے تصدیق کی کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین سیز فائر کا معاہدہ طے پاگیا ہے۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سرزمین پہ افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ فی الفور بند ہوگا، دونوں ہمسایہ ملک ایک دوسرے کی سرزمین کا احترام کریں گے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ25اکتوبر کو استنبول میں دوبارہ وفود میں ملاقات ہو گی اور معاملات پر تفصیلی بات ہوگی، ہم قطر اور ترکیہ دونوں برادر ممالک کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں قطری وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ پاکستان اور افغانستان جنگ بندی پر راضی ہوگئے ہیں، اس جنگ بندی کا فیصلہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ہوا۔قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق قطر و ترکیہ کی ثالثی میں ہوا، دونوں ممالک نے آئندہ چند دنوں میں مزید ملاقاتیں کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان امن اور استحکام کے لیے مستقل مکینزم بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

قطری وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی خطے میں پائیدار امن کے قیام کی مضبوط بنیاد فراہم کرے گی، امید ہے جنگ بندی دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی کا خاتمہ کرے گی۔ قطری وزارت خارجہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق دوحہ میں مذاکرات کے دوران پاکستان اور افغانستان نے جنگ بندی کا فیصلہ کیا، مذاکرات کی میزبانی ریاستِ قطر اور جمہوریہ ترکیہ نے کی،دونوں ممالک نے پائیدار امن اور استحکام کے لیے میکنزم پر اتفاق کیا، قطری وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان اور افغانستان نے فالو اپ ملاقاتوں پر بھی رضامندی ظاہر کی، جنگ بندی کے تسلسل اور عملدرآمد کو یقینی بنانے پر اتفاق کیاگیا۔امن اور استحکام کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ، قطر کی وزارتِ خارجہ نے جنگ بندی معاہدے کو خوش آئند قرار دیا،

قطر نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدام سرحدی کشیدگی ختم کرنے میں مدد دے گا،قطر نے اس پیش رفت کو خطے میں پائیدار امن کی بنیاد قرار دیا۔قطری انٹیلی جنس چیف عبداللہ بن محمد الخلیفہ کی میزبانی میں مذاکرات کا پہلا دور قطری دارالحکومت دوحہ میں مکمل ہوا تھا جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی، پاکستانی سکیورٹی حکام نے بھی وزیر دفاع کی معاونت کی۔دوسری جانب افغان وفد کی سربراہی وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے کی، افغان انٹیلی جنس کے سر براہ مولوی عبدالحق بھی شریک ہوئے۔سفارتی و سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے سب سے زیادہ مایوسی یقینا بھارت کو ھوگی جس کی جاری سازشیں دھری کی دھری رہ گئیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.