وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کا انتخاب غیر آئینی ہے، اپوزیشن کا چیلنج کرنیکا اعلان

حال نیوز۔۔۔۔۔فیصل کریم کنڈی گورنر خیبر پختونخوا نے وزیراعلیٰ کا انتخاب غیر آئینی قرار دے دیا۔ گورنر خیبر پختونخواہ فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ جب تک علی امین کا استعفیٰ منظور نہیں ہوتا، وزیراعلیٰ کا انتخاب غیر آئینی تصور ہوگا جبکہ اپوزیشن لیڈر نے سہیل آفریدی کے انتخاب کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔ گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ نئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا نوٹیفکیشن کون کرے گا، علی امین گنڈاپور کے استعفے سے مطمئن نہیں ہوں، اطمینان میرا آئینی حق ہے، علی امین پرسوں بدھ کو میرے پاس آجائیں، انہیں چائے بھی پلاؤں گا اور استعفیٰ بھی منظور ہو جائے گا۔

مرکزی حکومت اور خیبر پختونخواہ اپوزیشن نے وزیراعلیٰ کے انتخاب کو غیرآئینی عمل قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اسے قبول نہیں کیا جاسکتا اور عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ چیف جسٹس اور پشاور ہائیکورٹ اس متنازع پارلیمانی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔حکومتی وفد کی مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ آمد ہوئی۔مسلم لیگ نون کے رہنماوں کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی۔ملاقات میں وفاقی وزیر احسن اقبال، امیر مقام، اعظم نذیر تارڑ شریک تھے جبکہ ملاقات میں مولانا لطف الرحمان، علامہ راشد محمود سومرو، ایم پی اے سجاد خان، مخدوم افتاب شاہ نے شرکت کی۔

ملاقات میں خیبرپختونخوا کے سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اتفاق ہوا کہ خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی میں آج نئے وزیراعلی کا انتخاب ایک غیر آئینی عمل ہے۔جسے قبول نہیں کیا جاسکتا، صوبائی اسمبلی کے حزب اختلاف کی تمام جماعتیں وزیراعلی کے انتخاب کے اس عمل کو مسترد کرتی ہیں۔اس سلسلے میں ہم چیف جسٹس اور ہائی کورٹ پشاور سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس متنازع پارلیمانی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے،اور عدالتی رویوں کو اختیار کرتے ہوئے قانونی اور آئینی پہلوؤں سے صورت حال کا جائزہ لیگی، حزب اختلاف باقاعدہ اپنے وکلاء پینل کے ذریعے اس سلسلے میں عدالت کو درخواست دے گی۔

پاکستان تحریک انصاف کا چیف جسٹس کے نام لکھا گیا خط میڈیا کو موصول ہو گیا۔نو منتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے حلف لینے کے لیے خط چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو لکھا گیا ہے،جس کے متن میں لکھا گیا کہ علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ کے بعد سہیل آفریدی 90 ووٹ لیکر وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔خط میں لکھا گیا کہ وزیر اعلیٰ کے لیے 12 اکتوبر کو 4 امیدواروں نے کاغذات جمع کئے،اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر نے اعتراض اٹھایا کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ گورنر کی جانب سے منظور نہیں ہوا ہے۔متن میں یہ بھی لکھا گیا کہ اپوزیشن لیڈر نے اعتراض اٹھایا کہ نئے وزیر اعلیٰ کے لئے انتخاب نہیں ہوسکتا، گورنر خیبرپختونخوا حلف لینے کے لیے موجود نہیں۔خط میں کہا گیا کہ نئے وزیر اعلیٰ سے حلف لینا انتہائی اہم ہے، درخواست کی جاتی ہے کہ سپیکر یا کسی اور کو نامزد کرکے نئے وزیر اعلیٰ سے حلف لیا جائے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.