حال۔۔۔۔۔۔ بلوچستان میں بنیادی طبی سہولتوں کا شدید فقدان، کرپشن اپنے عروج پر، قومی شاہراہیں پر حادثات میں زخمی افراد بے یارو مددگار، سسک سسک کر مرنے لگے۔ آر سی ڈی اور کوسٹل ہائی ویز پر ٹراما سینٹرز و اسپتالوں کی عدم دستیابی سے قیمتی جانیں ضائع ہونے لگیں۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں بنیادی طبی سہولتوں کا فقدان کوئٹہ سے لے کر حب تک این 25آر سی ڈی شاہراہ اور کوسٹل ہائی پر تربت سے حب تک کہیں بھی طبی سہولتیں میسر نہیں ان شاہراہوں پر آئے روز ٹریفک حادثات میں زخمی ہونے والے مسافر طبی سہولتیں نہ ہونے کے باعث لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔
بلوچستان میں بنیادی طبی سہولتوں کے فقدان کے سبب صورتحال سنگین ہے چمن کوئٹہ سے لے کر لسبیلا حب تک آر سی ڈی شاہراہ این 25اور تربت سے لے کر حب تک کوسٹل ہائی پر حادثات کی صورت حال میں کہیں بھی ٹراما سینٹر برنس اسپتال بلڈ بینک اور دیگر بنیادی طبی سہولتوں کا مرکز موجود نہیں حادثات میں زخمی ہونے والے مسافروں یا پھر دیگر بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں علاج کیلئے لایا جاتا جہاں بلوچستان کے سادہ لوح غریب لوگوں شدید دشواریاں اور مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں نہ صرف خوار و پریشان ہونا پڑتا ہے بلکہ انہیں شدید مالی مشکلات اور دہری پریشانیوں سے دو چار ہونا پڑتا ہے عوامی حلقوں نے وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سمیت دیگر حکومتی ارکان کی توجہ اس اہم مسلئے کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں قومی شاہراہوں پر بنیادی طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے قدامات کئے جائیں۔