حال نیوز۔۔۔۔۔ پاکستان اور افغانستان میں جاری کشیدگی پر سعودی عرب سمیت دیگر ممالک نے تشویش کا اظہار کر دیا، دونوں ممالک کو ثالثی کی پیشکش کر دی۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب،ایران اور قطرنے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تنازع کے حل کے لیے تحمل اور مکالمے کا راستہ اپنائیں۔سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں حالیہ جھڑپوں اور کشیدگی پر سعودی عرب کو گہری تشویش ہے۔
دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں اور بات چیت، حکمت اور تحمل کا مظاہرہ کریں، تاکہ خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔سعودی حکومت نے اس موقع پر یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایسی تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا جو امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کا باعث بنیں خاص طور پر پاکستانی اور افغان عوام کے بہتر مستقبل کے لیے۔سعودی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق سعودی عرب خطے میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ برادر اقوام پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے تاکہ دونوں قومیں خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔
قطری وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک تحمل، بات چیت اور سفارتکاری سے مسائل حل کریں، خطے میں امن و استحکام کے لیے کشیدگی میں کمی ناگزیر ہے۔قطری وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے امن و خوشحالی کے لیے پُرعزم ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی خطے کے امن پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ایرانی وزارت خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کی حالیہ کشیدگی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی حالیہ کشیدگی پر تشویش ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ہر ملک کی علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کا احترام ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان اور افغانستان فوری مذاکرات کریں۔اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران پڑوسیوں میں کشیدگی کم کرانے میں مدد کے لیے تیار ہے۔واضح رہے کہ افغان فورسز نے پاک افغان بارڈر پر انگور اڈا، باجوڑ اور کرم کے مقامات پر بِلااشتعال فائرنگ کی جس کا پاک فوج نے بھرپور جواب دیا ہے۔