حماس اسرائیل غزہ امن معاہدہ، امریکہ کے 2 سو فوجی اسرائیل پہنچ گئے

حال نیوز۔۔۔۔۔۔ حماس اسرائیل غزہ امن معاہدہ، امریکہ کے 2 سو فوجی اسرائیل پہنچ گئے۔ تفصیلات کے مطابق فلسطین کے علاقے غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران امریکا کے 200 فوجی اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔یہ فوجی غزہ میں داخل ہوئے بغیر مصر، قطر اور ترکیے کے فوجیوں کے ساتھ تعاون کریں گے تاکہ امن معاہدے پر عملدر آمد یقینی بنایا جا سکے۔اسرائیلی فوج غزہ امن معاہدے کے مطابق طے شدہ حدود تک واپس جا چکی ہے۔

امن عمل کی نگرانی کے لیے اسٹیو وٹکوف امریکی نمائندہ خصوصی نے غزہ کا دورہ کیا اور تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج کے انخلا کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ دوسری جانب امریکی سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کا غزہ کا دورہ اس بات کا جائزہ لینے کے لیے تھا کہ سول ملٹری کوآرڈی نیشن سینٹر کیسے قائم کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غزہ میں کوئی امریکی فوجی تعینات نہیں ہوگا، بلکہ تعاون کا عمل باہر سے جاری رہے گا۔

امریکی فوجی غزہ نہیں جائیں گے بلکہ وہ قطر، مصر اور ترکیے کے فوجیوں سے تعاون کریں گے۔امریکی میڈیا کا بتانا ہے کہ اسرائیلی فوج کی غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے میں مقررہ حدود میں واپسی ہوئی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے غزہ کا دورہ کرکے اسرائیلی فوج کی واپسی کا جائزہ لیا۔قبل ازیں امریکی سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بھی غزہ کا دورہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ غزہ میں کوئی امریکی فوجی داخل نہیں ہوگا۔

اسرائیل کے وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کی بازیابی کے بعد سب سے بڑا چیلنج غزہ میں حماس کی سرنگوں کا خاتمہ ہے۔ فوج کو ان سرنگوں کے مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ ان کا خاتمہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل کا بنیادی حصہ ہے۔غزہ کے اندر یرغمالیوں کی سکیورٹی کے لیے اسرائیلی حکام نے خصوصی انتظامات شروع کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں متعدد سکیورٹی اجلاس منعقد ہوئے ہیں تاکہ انہیں بین الاقوامی ادارے ریڈ کراس کے حوالے کرنے کا طریقہ کار طے کیا جا سکے۔حماس یرغمالیوں کو ایک ہی مقام پر جمع کر رہی ہے تاکہ انہیں منظم طریقے سے منتقل کیا جا سکے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.