دہشت گردی افغانستان سمیت جہاں بھی ہوں نہیں چھوڑیں گے، پاکستان

حال نیوز۔۔۔۔۔۔ملکی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان طالبان کو ایک واضح اور سخت پیغام بھیجا ہے کہ اگر بلوچستان یا خیبر پختونخواہ میں کسی بھی نوعیت کا دہشت گردانہ حملہ کیا گیا تو پاکستان جوابی کارروائی میں افغان سرحد پار موجود طالبان پوسٹس کو نشانہ بنائے گا۔سرکاری سیکیورٹی حلقوں کے مطابق پاکستان اب صرف اندرونی حملوں تک محدود اقدامات تک موقوف نہیں رہے گا بلکہ وہ ان عناصر اور ان کے معاونین کے اڈوں کو افغانستان کے اندر بھی نشانہ بنائے گا جو باہر سے حملوں یا پراکسی سرگرمیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

ایک سینئر سیکیورٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ “تم دنیا کو اپنے نام نہاد ہیروپن سے متاثر کرسکتے ہو، مگر پاکستان تمہیں اندر اور باہر دونوں جگہ بہتر جانتا ہے۔ سیکورٹی ذرائع کا کہنا تھا تم پاکستان کی مدد کے بغیر کبھی سوویت یونین کو شکست نہیں دے سکتے تھے اور ایک طعنے میں طالبان سے پوچھا گیا کہ “کیا تم تورا بورا سے کیسے بھاگے تھے؟”یہ سوال تنازعہ کے ماضی اور عسکری ماضی کی طرف اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

آئندہ کسی بھی حملے کی صورت میں ردِعمل متناسب ہوگا مگر ساتھ ہی انفرادی اور گروہی بنیادوں پر کارروائی کی تفصیلات انٹیلی جنس اور ملٹری اوپریشنز کی کاروائیوں پر منحصر ہوں گی۔ مرکز اور سیکیورٹی ادارے داخلی سلامتی، سرحدی تحفظ اور علاقائی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے متحرک ہیں۔حکام نے زور دیا ہے کہ ملک کی سرحدی سالمیت اور شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور کسی بھی بیرونی مداخلت یا پراکسی نیٹ ورک کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تاحال اس بیان پر طالبان یا افغان سرکاری سطح سے کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.