دہشتگردی بلوچستان کیلئے کوئی مسئلہ نہیں،کرپشن سب سے بڑا مسئلہ ہے، میر سرفراز بگٹی

حال نیوز۔۔۔۔۔میر سرفراز بگٹی وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی بلوچستان کے لئے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے بلکہ کرپشن اس وقت بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق بیوٹمز یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان یا نام نہاد شورش نہیں بلکہ کرپشن ہے جس نے اس صوبے کے اداروں، معاشرتی ڈھانچے اور نوجوانوں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا ہے امن و امان کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے ہماری سیکیورٹی فورسز بھرپور پیشہ ورانہ استعداد رکھتی ہیں، مرکزی مسئلہ کرپشن کا ہے کرپشن کے خاتمے کے بغیر ترقی، انصاف اور بہتر طرزِ حکمرانی ممکن نہیں۔

سرفراز بگٹی وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے بلوچستان میں پہلی بار یوتھ پالیسی متعارف کرائی گئی نوجوان ہمارا مستقبل ہیں، نوجوانوں نے اس پاکستان کو لیکر آگے لیکر جانا ہے آپ نے وطن عزیز کے خلاف ہونے والی تمام سازشوں کو ناکام بنانا ہے آپ نے ریاست سے دور نہیں ہونا، نوکری، مسئلے مسائل اور حکومت سے ناراضگی ہوسکتی ہے اور یہ مسائل پورے پاکستان میں درپیش ہیں لیکن ریاست نے کوئی گناہ نہیں کیا ریاست سے خلیج کسی صورت ٹھیک نہیں، نوجوان نے پاکستان کے خلاف کسی پروپیگنڈہ کا حصہ نہیں بننا اس ملک کیلئے کام کرنا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے روز صوبائی اسمبلی فلور پر وعدہ کیا تھا کہ کوئی نوکری نہیں بکے گی ہم نے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں میں بارہ سے سولہ ہزار اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی کی اور میرٹ کے اس تسلسل کو ہر شعبہ میں متعارف کروا رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ بلوچستان میں کھیلوں کے میدان آباد کریں گے اور نوجوانوں کو صحت مندانہ سرگرمیوں کے بھرپور مواقع فراہم کریں گے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے کرپشن کے تدارک کیلئے نیب کیساتھ ساتھ چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور محکمہ جاتی جوابدہی کے عمل کو مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ ہر سطح پر شفافیت اور دیانت داری کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ریاست کی اصل طاقت بندوق نہیں بلکہ تعلیم یافتہ، باشعور اور ایماندار نوجوان ہیں نوجوان کسی بھی جھوٹے پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں بلکہ تحقیق کو فروغ دیں حکومت سے نوجوانوں کی ناراضگی ہوسکتی ہے تاہم ریاست نے کوئی گناہ نہیں کیا ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے وسائل عوام کی امانت ہیں جنہیں صرف عوامی فلاح و بہبود کیلئے استعمال کرنے کیلئے پرعزم ہیں ہر سرکاری افسر، استاد اور طالب علم پر لازم ہے کہ وہ اپنے فرائض میں دیانت داری، سچائی اور شفافیت کو بنیادی اصول بنائے۔ کرپشن صرف مالی بدعنوانی نہیں بلکہ ذمہ داریوں سے غفلت، اوقاتِ کار میں کوتاہی اور عوامی اعتماد کی خلاف ورزی بھی کرپشن کے زمرے میں آتی ہے۔

میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ریاست سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم قانون کا احترام کریں اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دیں، قومی وسائل کی حفاظت کریں اور اپنے قول و فعل میں شفافیت لائیں ان کا کہنا تھا کہ ریاست سے محبت کا ثبوت صرف نعرے نہیں بلکہ کردار اور عمل سے ظاہر ہوتا ہے ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان نے ادارہ جاتی شفافیت کے لیے مؤثر اصلاحات شروع کی ہیں اور بدعنوان عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔ دیانت دار افسران کی حوصلہ افزائی اور عوامی اعتماد کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام باصلاحیت، محب وطن اور جفاکش ہیں ضرورت صرف اس عزم کو منظم سمت دینے کی ہے آج کے نوجوان اگر کرپشن کے خلاف متحد ہو جائیں تو آنے والی نسلوں کو ایک صاف، شفاف اور مضبوط بلوچستان ملے گا۔

سرفراز بگٹی کا اپنے خطاب کہنا تھا کہ ہم سب کو مل کر کرپشن کے خلاف جدوجہد کرنی ہے یہ صرف ایک ادارے یا حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے نوجوان ہی وہ قوت ہیں جو بلوچستان کو دیانت داری، محنت اور خدمت کے راستے پر لے جا سکتے ہیں انہوں نے بین الیونیورسٹیز اسپورٹس فیسٹیول کے کامیاب انعقاد پر مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ، سیکرٹری درا بلوچ سمیت تمام ٹیم کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسی مثبت سرگرمیوں کا تسلسل یوتھ سمٹ سمیت آئندہ بھی جاری و ساری رکھا جائے گا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.