حال نیوز۔۔۔۔گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ہونے والی ملاقات میں انہوں نے سابق وزیراعظم کی ہمشیرہ علیمہ خان پر الزامات عائد کرتے ہوئے عمران خان سے شکایت کی تھی کہ علیمہ خان پارٹی امور میں حد سے زیادہ مداخلت کر رہی ہیں اور انکے پاکستان کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں سے رابطے ہیں جن کی وجہ سے پارٹی کا بیانیہ مسلسل کمزور ہو رہا ہے جس پر عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان بھی الزامات کا جواب دینے میدان میں آگئیں۔
علیمہ خان نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے عمران خان سے ملاقات میں میرے بارے میں 3باتیں کی ہیں، علی امین گنڈاپور نے عمران خان سے کہا کہ میں خفیہ ایجنسی ایم آئی سے رابطے میں ہوں، سارا سوشل میڈیا میرے کنٹرول میں ہے اور میں پاکستان تحریک انصاف کی چیئرمین بننا چاہتی ہوں۔وزیراعلی خیبرپختونخواہ علی امین گنڈاپور نے الزام عائد کیا کہ علیمہ خان کا تمام وی لاگرز سے رابطہ ہے، علیمہ خان کے حکم پر میرے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور کا ویڈیو بیان نہیں سنا لیکن اگر میں ایم آئی کی ایجنٹ ہوں تو کیا اس لیے کل مجھے پورا دن قبرستان میں کھڑا کر دیا گیا تھا؟ گنڈا پور ثابت کرے میں کس وی لاگر کو کنٹرول کرتی یا فیڈ کرتی ہوں؟۔ توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے لیے عمران خان کی بہنیں علیمہ خان، نورین خان اور عظمی خان اڈیالہ جیل پہنچیں، اس موقع پر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ خان نے میڈیا سے بات چیت کے دران اظہار خیال کیا۔