عوامی اوڈ اتحاد کے چیئرمین شیرل فقیر اوڈ کی سربراہی میں اوڈ برادری کا ایک اجلاس منعقد ہوا،

سکرنڈ (رپورٹ: راج کمار اوڈ) عوامی اوڈ اتحاد کے چیئرمین شیرل فقیر اوڈ کی سربراہی میں اوڈ برادری کا ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں بالم راہ اوڈ، امتیاز اوڈ، راڻو مل اوڈ، ندیم اوڈ، سکندر اوڈ، پپو اوڈ، نواب اوڈ، جمن اوڈ، راج کمار اوڈ سمیت اوڈ برادری کے کثیر افراد نے شرکت کی۔

اس موقع پر عوامی اوڈ اتحاد کے چیئرمین شیرل فقیر اوڈ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اوڈ برادری کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے آپسی اختلافات ختم کیے جائیں اور برادری کے مسائل حل کیے جائیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے درمیان اتحاد اور اتفاق ہوگا۔

مرکزی وائس چیئرمین امتیاز اوڈ نے کہا کہ ہماری برادری باشعور ہے اور ہمارے نوجوان تعلیم یافتہ ہیں، مگر ہمیں نوکریوں میں کوٹہ نہیں دیا جا رہا۔ سندھ میں ترقیاتی اسکیموں میں بھی ہماری برادری کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ عوامی اوڈ اتحاد کے پلیٹ فارم سے اپنی برادری کو اس کے حقوق دلائیں۔

صوبائی صدر بالم اوڈ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد غیر سیاسی ہے اور اس کا مقصد برادری میں شعور بیدار کرنا ہے۔ ہم اوڈ برادری کی بیٹیوں اور نوجوانوں کو تعلیم دلوانا چاہتے ہیں اور ان کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔ سندھ میں اقلیتی برادری کے لیے مخصوص جگہیں نہ ہونے کی وجہ سے تدفین کا مسئلہ درپیش ہے، لہٰذا حکومت سے مطالبہ ہے کہ ہمیں زمین دی جائے تاکہ اقلیتی برادری میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو۔

اجلاس میں برادری کے معزز افراد پپو اوڈ، گلشیر اوڈ، ہشمت اوڈ اور دیگر نے عوامی اوڈ اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر جشنِ آزادی بھرپور طریقے سے منانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

آخر میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ نوکریوں میں 5 فیصد کوٹہ پر عملدرآمد کیا جائے اور اقلیتی برادری کو سندھ بھر میں مخصوص جگہیں دی جائیں۔ اوڈ برادری کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ازالہ کیا جائے۔

You might also like

Comments are closed.