صدر آصف علی زرداری کو ہٹانے کے متعلق جو افواہ پھیلائی گئی ہے، اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے درگاہ پیر ذاکری کے سجادہ نشین سید منیر شاہ ذاکری

سکرنڈ رپورٹ: راج کمار اوڈ

درگاہ پیر ذاکری کے سجادہ نشین سید منیر شاہ ذاکری نے سکرنڈ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں جو لوگ اقتدار اور عہدے دیتے ہیں، وہ واپس لینا بھی جانتے ہیں، اس لیے میرے خیال میں صدر آصف علی زرداری کو ہٹانے کے متعلق جو افواہ پھیلائی گئی ہے، اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ البتہ آئینی ترمیم نمبر 27 کے بارے میں جو باتیں ہو رہی ہیں، ہو سکتا ہے کہ اس میں کچھ ایسی شقیں شامل ہوں جن کے لیے دباؤ ڈالنا مقصد ہو۔ پاکستان میں یہ آزمودہ طریقہ ہے کہ اس طرح کی باتیں پھیلا کر کسی مخصوص ایجنڈے پر رضا مند کیا جاتا ہے۔ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1934 میں بھی “سنڌ پیپلز پارٹی” بنی تھی، جس کے صدر سر شاہنواز بھٹو تھے اور سائیں جی ایم سید اس کے جوائنٹ سیکریٹری۔ اب 91 سال بعد ایک بار پھر “پوتا” (ذوالفقار بھٹو جونیئر) اور “پڑپوتا” (سائیں زین شاہ) مل کر سیاست کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ پچھلی بار جب دونوں ایک ہی پارٹی میں تھے، تو ایک سال بھی ساتھ نہ چل سکے۔ اب دیکھتے ہیں کہ الگ الگ پارٹیوں میں رہتے ہوئے کتنی دیر تک ساتھ چل پائیں گے۔

رہی بات سندھ حکومت کے ترجمانوں کی بیان بازی کی، تو اس سے لگتا ہے کہ انہوں نے دباؤ محسوس کیا ہے۔ وہ چاہے مرتضیٰ بھٹو کی مثالیں دیں، لیکن انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ وقت وہی نہیں رہا۔

پاکستان کی موجودہ صورتحال میں انتخابی یا پارلیمانی سیاست کسی نظریے کی بنیاد پر کی ہی نہیں جا سکتی۔ جو شخص یا جماعت ایسی باتیں کرتا ہے، وہ حقیقت کو چھپا رہا ہے۔ آج کی انتخابی سیاست نظریے کے بجائے اقتدار کے حصول کی جدوجہد ہے۔ معاشرے میں نچلی سطح سے اوپر تک سب کرپشن کے ذریعے آگے بڑھنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ کچھ کامیاب ہو جاتے ہیں، اور جو ناکام ہوتے ہیں، وہ انہیں گالیاں دیتے ہیں۔

انتخابی سیاستدان وہی سیاست کرتے ہیں جو “مارکیٹ” میں بِک سکے۔ ہمارا عام آدمی اسی میں خوش ہوتا ہے کہ اس کے چنے ہوئے نمائندے یا پارٹی رہنما اس کی دعوتوں میں شرکت کریں۔ ماشاءاللہ ہمارے نمائندے شادیوں، ولیموں، عقیقوں سے لے کر تعزیت اور جنازوں تک، ہر جگہ پہنچتے ہیں۔ اب تو خیرات، نذر و نیاز اور عرس بھی نہیں چھوڑتے۔

رہے عوامی مسائل، تو وہ چلتے رہیں گے۔ ترقیاتی کام بھی ہو رہے ہیں۔ افسران اور ٹھیکیدار اپنے لوگ ہیں، وہ سڑکیں اور عمارتیں بنا رہے ہیں۔ نوکریاں “مارکیٹ” میں موجود ہیں۔ باقی کرپشن، اداروں کی تنزلی اور سندھ کی ترقی یا پسماندگی سے عوام کا کیا لینا دینا.

You might also like

Comments are closed.