‎وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے آج بیجنگ میں چائنا اٹامک انرجی اتھارٹی اور چین کی خلائی ایجنسی کے چیئرمین مسٹر شان زونگڈے سے ملاقات کی۔


‎بیجنگ، 4 اگست 2025

‎وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے آج بیجنگ میں چائنا اٹامک انرجی اتھارٹی اور چین کی خلائی ایجنسی کے چیئرمین مسٹر شان زونگڈے سے ملاقات کی۔

‎ملاقات میں جوہری توانائی اور خلائی تحقیق میں تعاون کو ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

‎وزیر احسن اقبال نے اقوام کہا کہ سی پیک نے پاکستان کے انفراسٹرکچر اور توانائی کے شعبے میں موجود رکاوٹوں کو دور کیا ہے۔

‎انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون مسلسل ترقی کر رہا ہے۔

‎کے-2 کے-3 اور سی-5 نیوکلئر پاور پلانٹس اس تعاون کی روشن مثالیں ہیں۔

‎موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے ایٹمی توانائی کے ذرائع اپنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

‎انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے اثرات نے دنیا کو خوراک، پانی، صحت، زراعت، معدنیات اور دیگر معاشی شعبوں میں پائے جانے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے متبادل توانائی تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

‎انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت اور وژن کے تحت پاکستان کے خلائی پروگرام کو نئی تحریک ملی ہے۔

‎انہوں نے مزید کہا کہ “اڑان پاکستان” کے تحت خلائی سائنس پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ حال ہی میں پاکستان نے چین کے تعاون سے تین سیٹلائٹس کامیابی سے خلا میں بھیجے ہیں۔

‎پاکستان 2026 میں اپنا پہلا خلاباز چینی خلائی اسٹیشن پر بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

‎احسن اقبال نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کی خلائی تحقیقاتی ایجنسی کو 2035 تک چاند پر مشن بھیجنے کا ہدف سونپ دیا ہے۔

‎انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں اعلیٰ معیار کی انسانی وسائل دستیاب ہیں، جن کی صلاحیتوں سے چین بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

‎وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے مستقبل کے ٹیکنالوجی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے کوانٹم کمپیوٹنگ کا سینٹر قائم کیا ہے۔

‎انہوں نے سی اے ای سی اور سپارکو اور پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے ماہرین کی تحقیقاتی شراکت داری اور ٹیکنالوجی کے سویلین استعمال میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔

‎احسن اقبال نے کہا کہ سائینس، ٹیکنالوجی اور انجینرنگ کے شعبہ جات کو قومی ترقی سے ہم آہنگ کرنے کے پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔

‎احسن اقبال نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز انوویشن کا مقابلہ کرنے کے لئے اران پاکستان کے تحت انسانی وسائل کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کا حصول ہماری ترجیح ہے۔

‎احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان پاکستانی سائنسدانوں کے لئے چینی تبادلہ پروگرام کے تحت خلائی ٹیکنالوجی میں اعلیٰ تعلیم کے مواقعوں میں اضافہ کیا جائے۔

‎چیئرمین شان زونگڈے نے وفاقی وزیر احسن اقبال کی سی پیک کے لئے گرانقدر خدمات کو سراہا۔

‎چیئرمین شان زونگڈے نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات مضبوط جغرافیائی اسٹریٹجک بنیادوں پر قائم ہیں جو اب معاشی تعاون میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

‎انہوں نے کہا کہ چین خلائی تحقیق کے شعبہ میں پاکستان سے بھرپور تعاون کے لئے تیار ہے۔

‎انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان محفوظ ایٹمی توانائی کے استعمال پہ کاربند ہیں

You might also like

Comments are closed.