محمد کاشف، پی آئی ڈی، پشاور
تاریخ: ۲ اگست ۲۰۲۵
مسئلہ جموں و کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور عالمی سطح پر اس کی سفارتی کوششوں کا محور رہا ہے۔ یہ ایک دیرینہ تنازع ہے جو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو اجاگر کیا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس مسئلے کے پرامن حل کی بھرپور وکالت کی ہے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ (UN)، اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، یورپی یونین (EU)، اور دیگر بین الاقوامی و علاقائی تنظیموں میں مسلسل اور مؤثر طریقے سے مسئلہ کشمیر اٹھایا ہے۔ یہ کوششیں پاکستان کی اخلاقی، سیاسی، اور سفارتی ذمے داری کا مظہر ہیں، جو مقبوضہ جموں و کشمیر کے ان مظلوم عوام کے لیے ادا کی جارہی ہیں جو دہائیوں سے ریاستی جبر، کرفیو، جبری گرفتاریاں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی قیادت نے ہمیشہ کشمیریوں کے مصائب پر روشنی ڈالی ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی مظالم کا نوٹس لے، خاص طور پر اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے یکطرفہ اور غیر قانونی خاتمے کے بعد سے پیدا ہونے والی صورتحال کا۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں باقاعدہ ڈوزیئرز اور شواہد بھی جمع کروائے ہیں جن میں بھارتی فورسز کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفصیلات شامل ہیں، اور عالمی ادارے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک خصوصی مبصر مقرر کرے۔
اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، جو مسلم دنیا کی اجتماعی آواز ہے، نے بھی مسئلہ کشمیر پر مسلسل پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔ پاکستان نے OIC سے ایسے ٹھوس قراردادیں منظور کروائیں جن میں بھارتی اقدامات کی مذمت کی گئی اور کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا۔ او آئی سی کا کشمیر سے متعلق رابطہ گروپ اس حوالے سے متحرک رہا ہے اور پاکستان اس کا مرکزی رکن ہے۔
یورپی یونین میں بھی پاکستانی سفارتکار، پارلیمانی وفود، اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطے میں رہتے ہیں تاکہ مقبوضہ وادی میں جاری محاصرہ، آبادی کے تناسب میں تبدیلی، اور مواصلاتی ناکہ بندی جیسے اقدامات کو اجاگر کیا جا سکے۔ پاکستان نے یورپی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی روشنی میں اصولی موقف اختیار کریں۔
ان فورمز سے ہٹ کر بھی پاکستان نے عالمی رائے عامہ کو بیدار کرنے کے لیے کانفرنسز، بریفنگز، اور میڈیا کے ذریعے مسلسل آگاہی مہمات جاری رکھی ہوئی ہیں۔ دفتر خارجہ اور بیرونِ ملک پاکستانی سفارت خانے ہر سال یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر خصوصی تقاریب منعقد کرتے ہیں، اور بیرون ملک مقیم پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کو بھی متحرک کیا جاتا ہے تاکہ عالمی دارالحکومتوں میں مسئلہ کشمیر اجاگر ہو سکے۔
پاکستان اس بات پر قائم ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر ہر بین الاقوامی فورم پر بھرپور، باوقار اور مسلسل انداز میں اٹھاتا رہے گا۔ بھارت کی جانب سے تنقید دبانے کی کوششوں اور عالمی سیاسی چیلنجز کے باوجود، پاکستان کا موقف انصاف، انسانی ہمدردی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مبنی ہے۔ اسلام آباد نے واضح کر دیا ہے کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں، بلکہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے جس کا حل صرف پرامن بات چیت، سفارت کاری، اور عالمی قوانین کی روشنی میں ممکن ہے۔
جب تک کشمیری عوام کی جائز خواہشات پوری نہیں ہوتیں، پاکستان عالمی سطح پر ان کی آواز بنتا رہے گا — مضبوط، مستقل اور یکجہتی کے ساتھ۔
Comments are closed.