حال نیوز۔۔۔۔اعظم نذیر تارڑ وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ ریکوڈک معاہدے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی مداخلت کی وجہ سے پاکستان کو 8 ارب ڈالر تک کا جرمانہ برداشت کرنا پڑا، تاہم نئے معاہدے میں بلوچستان کو زیادہ حصہ دیا گیا ہے اور شفافیت کے لیے صدارتی ریفرنس بھی دائر کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ معدنیات صوبوں کی ملکیت ہیں اور وفاق صرف سرمایہ کاری کے عمل میں کردار ادا کرتا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کیساتھ معاہدے سے پاکستان کو عالمی سطح پر عزت ملی ہے اور اب پاکستانی عوام کا نام حرمین شریفین کے محافظین کے طور پر لکھا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے نتیجے میں پاکستان کی سفارتی تنہائی ختم ہو چکی ہے اور دنیا کے کئی ممالک پاکستان سے تعاون کے خواہاں ہیں۔وفاقی وزیر نے فلسطین کے حوالے سے کہا کہ اسرائیل کی جارحیت کے مناظر دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، تاہم اب مسئلہ حل کی جانب بڑھ رہا ہے
وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ بھارت کی حالیہ جارحیت کا پاکستان نے مؤثر جواب دیا، جس کے بعد بھارت عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستانی وفد نے دنیا بھر میں پاکستان کا مقدمہ پیش کیا۔اعظم تارڑ نے تجویز دی کہ وزیر اعظم سال میں کم از کم ایک مرتبہ سینیٹ میں آ کر سوالات کے جوابات دیں تاکہ پارلیمانی روایات مزید مضبوط ہوں۔
18 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ 18ویں ترمیم کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہے اور اس پر مکمل عمل درآمد کے لیے کوشاں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں عالمی سطح پر جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، اس پر پوری قوم شکر گزار ہے۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اے این پی کے رہنماؤں نے جمہوریت کے لیے گراں قدر قربانیاں دی ہیں اور مسلم لیگ (ن) بھی جمہوریت کے استحکام کے لیے ہمیشہ پرعزم رہی ہے۔