مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن لیڈر کیلئے محمود خان اچکزئی کی حمایت کر دی

حال نیوز۔۔۔۔۔رکن قومی اسمبلی و مرکزی امیر جماعت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کیلئے محمود خان اچکزئی کی حمایت کا اعلان کر دیا۔پی ٹی آئی وفد کی فضل الرحمن سے ملاقات، پارلیمان میں اپوزیشن کو متحد کرنے میں کردار ادا کریں، پی ٹی آئی نے جے یو آئی سے کے پی سے خالی سینیٹ کی نشست کے معاملے پر ’تعاون کی اپیل کر دی۔ تفصیلات کے مطابق جے یو آئی نے اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے پشتونخوامیپ کے محمود خان اچکزئی کو نامزد کرنے میں پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی نے باضابطہ طور پر محمود خان اچکزئی جن کی جماعت اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کا حصہ ہے، جس میں پی ٹی آئی سمیت چھ جماعتیں شامل ہیں کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنانے کی درخواست دی ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی نشست 5 اگست کو پی ٹی آئی کے عمر ایوب خان کی نااہلی کے بعد سے خالی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کا ایک وفد اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر پہنچا ’جہاں جمعیت علماء اسلام نے محمود خان اچکزئی کی نامزدگی کی حمایت پر رضامندی ظاہر کی۔پی ٹی آئی وفد میں اسد قیصر، صوبائی صدر پی ٹی آئی جنید اکبر، اور شہرام ترکئی شامل تھے، جبکہ جے یو آئی(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ہمراہ مولانا صلاح الدین ایوبی، ایڈووکیٹ جلال الدین اور ان کے صاحبزادے مولانا اسجد محمود موجود تھے۔ملاقات کے دوران پی ٹی آئی وفد نے جے یو آئی کے سربراہ سے درخواست کی کہ وہ پارلیمان میں اپوزیشن کو متحد کرنے میں کردار ادا کریں اور کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے جے یو آئی(ف)سے کے پی سے خالی سینیٹ کی نشست کے معاملے پر ’تعاون کی اپیل کی۔

دونوں جماعتوں کے درمیان موجودہ سیاسی اور علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔بیان کے مطابق، پی ٹی آئی نے ’خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر ایک قومی جرگہ بلانے کی تجویز’پر بھی جے یو آئی کے سربراہ سے مشاورت کی۔ مولانا فضل الرحمٰن نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ایکس اکاؤنٹ پر بعد ازاں جاری کردہ پوسٹ میں بتایا گیا کہ پی ٹی آئی رہنماء اسد قیصر نے موالانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی تفصیلات محمود خان اچکزئی اچکزئی کو بتائیں اور انہیں اعتماد میں لیا۔پوسٹ میں کہا گیا کہ ملاقات کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نومبر میں ملک بھر میں عوامی اجتماعات کا انعقاد کرے گی۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ جے یو آئی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے عہدے کیلئے پی ٹی آئی کی حمایت کریگی۔ ایک سوال کے جواب میں، جس میں نئے اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے بات کی گئی تھی، سلمان اکرم راجہ نے کہا تھاکہ ماضی کو دیکھتے ہوئے، مجھے نہیں لگتا کہ وہ آخر میں ہمارے ساتھ جائیں گے۔ وہ پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (ن) کیساتھ اتحاد کرتے ہیں یا نہیں، اس پر میں کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن ہمیں (پی ٹی آئی) کو اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔اسی دن، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی تھی، جہاں دونوں رہنماؤں نے اہم قومی امور پر مشترکہ حکمت عملی کی تشکیل پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.