حال نیوز۔۔۔۔۔۔کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر افغانستان کے اندر جاکرجواب دینا پڑا تودینگے۔ کابل کی نیت میں فتورسب پرعیاں ہوگیا ہے، اب دوا توکوئی نہیں ہے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔ افغانستان ریاست کی تعریف پربھی پورا نہیں اترتا، طالبان ریاست کے تشخص کے عادی بھی نہیں اور نہ ہی سمجھ ہے۔ خواجہ آصف وزیردفاع کا کہنا تھا کہ کابل کی نیت میں فتورسب پرعیاں ہوگیا ہے، اب دوا توکوئی نہیں ہے دعا ہی کی جاسکتی ہے
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغانستان ریاست کی تعریف پربھی پورا نہیں اترتا، طالبان ریاست کے تشخص کے عادی بھی نہیں اور نہ ہی سمجھ ہے۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ خلاف ورزی پر افغانستان کے اندر بھی جاکرجواب دینا پڑا تودینگے‘افغانستان سب چیزوں کو مانتا ہے لیکن تحریری طورپر دینے کو تیار نہیں۔خواجہ آصف کے مطابق کل شام پاک افغان طالبان کے مذاکرات کامعاملہ مکمل ہوا ہے، ثالثوں پربھی یہ چیزعیاں ہوگئی کہ کابل کی نیت کیا ہے،کابل کی نیت میں فتورسب پرعیاں ہوگیا ہے
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ افغانستان کیلئے اب دوا توکوئی نہیں ہے دعا ہی کی جاسکتی ہے، اندیشہ ہے کہ طالبان افغانستان کو ماضی میں دھکیل رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ریاست کی تعریف پربھی پورا نہیں اترتا، طالبان ریاست کے تشخص کے عادی بھی نہیں اور نہ ہی سمجھ ہے، طالبان ایک ماردھاڑکرنے والے مالی فوائد اٹھا رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہاکہ کابل حکومت میں کوئی ایسا موجود نہیں جو ریاست کی وضاحت کرے۔
جب وزیر دفاع خواجہ آصف سے سوال کیا گیا کہ اب دوبارہ دہشتگردی ہوتی ہے تو کیا کرینگے؟ تو جواب میں کہا کہ افغان کی زمین استعمال ہوئی توپھرہم جواب دینگے،ہماری سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی تو ہم بھی حملہ کرینگے۔خلاف ورزی پر افغانستان کے اندر بھی جاکرجواب دینا پڑا تودینگے،اگرکابل نے مزاحمت کا راستہ اپنایا ہے اس طرح ہے تو پھر اسطرح ہی سہی،افغانستان سب چیزوں کو مانتا ہے لیکن تحریری طورپر دینے کو تیار نہیں۔