موسمیاتی تبدیلیاں، بلوچستان شدید متاثر، سنگین مسائل پیدا ہونے کا خطرہ

حال نیوز۔۔۔۔۔۔بلوچستان اس وقت ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین ترین خطرات سے دوچارہے،صوبائی حکومت نے جامع حکمت عملی تیار کر لی۔ صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں، عوام، سول سوسائٹی اور نوجوان نسل کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق نسیم الرحمان ملا خیل صوبائی مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات کا کہنا تھا کہ بلوچستان ماحولیاتی تبدیلی کے شدید خطرات سے دوچار ہے، جہاں خشک سالی، درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، پانی کی کمی اور زمین کی زرخیزی میں کمی جیسے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں صوبے کی معیشت، زراعت اور انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

نسیم الرحمن ملا خیل کے مطابق حکومت بلوچستان نے ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور مرحلہ وار حکمت عملی تیار کر لی ہے، جس کے تحت شجرکاری، واٹر ریچارج منصوبوں، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور آلودگی کے کنٹرول پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گرین بلوچستان مہم کے تحت اب تک ہزاروں درخت لگائے جا چکے ہیں جبکہ مزید اضلاع میں شجرکاری کے لیے اسکولوں، کالجوں اور سماجی تنظیموں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔

صوبائی مشیر نسیم الرحمان خان ملا خیل کے مطابق حکومت ماحولیاتی استحکام کے لیے عوامی شمولیت کو کلیدی حیثیت دیتی ہے، اسی مقصد کے تحت ضلعی سطح پر ماحولیاتی کمیٹیاں تشکیل دی جا رہی ہیں تاکہ مقامی مسائل کے حل میں تیزی لائی جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ صرف حکومتی کوششیں کافی نہیں، بلکہ سول سوسائٹی، میڈیا اور نوجوان نسل کو بھی ماحول کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔میر سرفراز بگٹی وزیراعلی بلوچستان نے بھی اس سلسلے میں کہا کہ بلوچستان کا ماحولیاتی مستقبل ہمارے آج کے فیصلوں پر منحصر ہے، اگر ہم نے ابھی اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلوں کے لیے حالات مزید مشکل ہو جائیں گے۔

نسیم الرحمن کے مطابق صاف توانائی، جنگلات کے تحفظ اور پانی کے ذخائر کی بحالی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ کلائمیٹ فنانسنگ میں بلوچستان کو اس کا مناسب حصہ دیا جائے تاکہ صوبہ ماحولیاتی چیلنجز کا مثر انداز میں مقابلہ کر سکے۔نسیم الرحمان ملا خیل نے بتایا کہ بلوچستان کے عوام میں ماحولیاتی شعور بیدار کرنے کے لیے میڈیا اور تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر آگاہی مہم شروع کی جا رہی ہے تاکہ ہر شہری ماحولیاتی تحفظ کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر تمام ادارے اور عوام ایک ساتھ چلیں تو بلوچستان کو نہ صرف ماحولیاتی تباہی سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ اسے ایک سرسبز، پائیدار اور خوشحال صوبے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.