حال نیوز۔۔۔۔۔۔سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خبیرپختوانخوا اور تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر خان کے جارحانہ رویے سے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت شدید پریشان ہو گئی۔ وزیراعلیٰ اور پارٹی کے صوبائی صدر کے اشتعال انگیزی پر مبنی بیانات پارٹی کی واحد حکومت کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے اندر اختلافات ایک بار پھر ابھر کر سامنے آگئے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے کئی سینئر رہنماؤں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پارٹی کے صوبائی صدر جنید اکبر کے حالیہ جارحانہ بیانات پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔
تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کے مطابق دونوں رہنماؤں کی جانب سے اختیار کیے جانے والے لب و لہجے کی وجہ سے پی ٹی آئی کی اہم شخصیات پریشان ہوگئی ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ ایسا جارحانہ رویہ خیبر پختونخوا میں پارٹی کی حکومت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے جن لوگوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے اْن میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور، سینیٹر شبلی فراز، شیخ وقاص اکرم اور دیگر شامل ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء و سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ علی امین گنڈا پور نے خبردار کیا ہے کہ وزیراعلیٰ اور پارٹی کے صوبائی صدر کے اشتعال انگیزی پر مبنی بیانات پارٹی کی واحد حکومت کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ کے پی میں سیٹ اپ کو نقصان سے دوچار کرنے کی بجائے ایسی کوششیں کرنی چاہئیں جن میں توجہ صوبائی حکومت کو بچانے اور اسے برقرار رکھنے پر مرکوز رکھنا چاہیے۔
پارٹی ذرائع نے انکشاف کیا کہ بیرسٹر گوہر علی خان، شبلی فراز اور شیخ وقاص اکرم نے بھی مقتدر حلقوں کیخلاف اختیار کردہ محاذ آرائی کے موقف کے حوالے سے انہی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر یہ تشویش بڑھتی جا رہی ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو ہدف بنانے کیلئے کھل کر اشتعال انگیز بیانات دینے سے عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور ممکنہ طور پر 9 مئی جیسی صورتحال دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے جس سے پارٹی قیادت یقیناً بچنا چاہتی ہے۔