اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن نیا ہے اور اس آپریشن کا حصہ نہیں ہے جو جنوری 2025میں شروع کیا گیا تھا، جس کا بنیادی ٹارگٹ فلسطینی پناہ گزین کیمپ تھے۔یاد رہے کہ مغربی کنارے میں تشدد میں نمایاں اضافہ اس وقت ہوا تھا جب اکتوبر 2023میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہوئی، رواں سال اکتوبر 10سے غزہ میں جاری جنگ بندی کے باوجود مغربی کنارے میں صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
فلسطینی تنظیم حماس نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی واضح خلاف ورزی کی ہے اور رفح شہر کے زیر زمین سرنگوں میں پھنسے اس کے جنگجوؤں کو تعاقب، نشانہ بنانے اور گرفتار کرنے کی کارروائیاں کی ہیں۔حماس نے ایک بیان میں اسرائیل کو اپنے جنگجوؤں کی زندگی کا مکمل ذمہ دار قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ ثالث فوری طور پر مداخلت کریں تاکہ تل ابیب پر دباؤ ڈال کر ان جنگجوؤں کو اپنے گھروں کو لوٹنے کی اجازت دلائی جا سکے۔
حماس کے اعلیٰ عہدیدار کے بیان میں مزید کہا گیا کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران حماس نے سیاسی قیادت اور ثالثوں کے ساتھ وسیع رابطے کیے تاکہ جنگجوں کی واپسی کا مسئلہ حل کیا جا سکے۔ ہم نے واضح تجاویز اور مخصوص طریقہ کار پیش کیے اور ثالثوں اور امریکی انتظامیہ کے ساتھ مکمل رابطے میں رہے جو جنگ بندی معاہدے کے ضامن ہیں۔ تاہم بیان کے مطابق اسرائیل نے ان تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا۔