وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ سابق چیئرمین سے ملاقات نہ کرانے پر ہمارے خدشات بڑھ رہے ہیں اس کے بعد ہمارے پاس آخری راستہ بھی اس پر بھی غور کیا جارہا ہے حالیہ ضمنی انتخاب میں 95 فیصد لوگ ووٹ دینے نہیں نکلے پنجاب کی عوام نے ووٹ نہ دے سابق چیئرمین سے اظہار یکجہتی کیا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل کے قریب گورکھپور ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں کیا قبل ازیں جب انہیں گورکھپور ناکے پر روکا گیا تو انہوں نے وہاں موجود موجود ایس ایچ او سے کہا کہ میں ایک صوبے کے ساڑھے 4 کروڑ عوام کا نمائندہ ہوں آٹھویں مرتبہ میں یہاں آ رہا ہوں مجھے کیوں نہیں سابق چیئرمین سے ملنے دیا جا رہا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ کیوں ایک صوبے کی تذلیل کی جا رہی ہے کیا ہم بھی آپ کے ساتھ ایسا سلوک کریں تو کیسا لگے گا کون ہے اندر سپرنٹنڈنٹ ہے یا کوئی اور بیٹھا ہے بتائیں ملاقات کروائیں میں یہاں موجود ہوں ملاقات کے لئے آیا ہوں اور میں یہاں بیٹھوں گا تاہم اس دوران انسپکٹر اعزاز نے سہیل آفریدی کی کسی بات کا جواب نہیں دیا اور مسلسل خاموش سنتے رہے بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم نے تمام قانونی اور جمہوری راستے اپنائے ہیں میں دھرنے میں آنا چاہتا تھا لیکن سابق چیئرمین کی بہنوں نے منع کیا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخواسہیل خان آفریدی کا کہنا تھا کہ موجودہ وفاقی حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر حکومت سے مذاکرات ہوئے لیکن انکے پاس کوئی اختیار نہیں 8 فروری کو جو ہوا وہی 23 نومبر کو بھی ہوا یہ سمجھتے ہیں عوام کا جمہوریت پر سے بھروسہ اٹھ جائے حالیہ ضمنی انتخاب میں 95 فیصد لوگ ووٹ دینے نہیں نکلے پنجاب کی عوام نے ووٹ نہ دے سابق چیئرمین سے اظہار یکجہتی کیا ہے سابق چیئرمین سے ملاقات نہ کرانے پر ہمارے خدشات بڑھ رہے ہیں اس کے بعد ہمارے پاس آخری راستہ بھی اس پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ میں نے کسی سے بات کرنیکی بات نہیں کی کیونکہ انکے پاس مینڈیٹ ہی نہیں آئی ایم ایف نے موجودہ حکومت کے خلاف چارج شیٹ پیش کی ہے صحافیوں کو بھی چاہئے 5 ہزار 300 ارب کی کرپشن پر بات کرے یہ عام آدمی کے ٹیکس کا پیسہ ہے انہوں نے پانچ ہزار 300 ارب کھائے ڈکار بھی نہیں مارا اس وقت بے روزگاری آسمان کو چھو رہی ہے نوجوان پاکستان چھوڑ کر جارہے ہیں سوال ان سے بھی ہوگا جنہوں نے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی میں اپنے صوبے کا مقدمہ لڑونگا شرکت کرونگا حکومت نے چار مرتبہ ایف ایف سی اجلاس ملتوی کیا ہے۔