افغان شہری کی وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، سیکورٹی گارڈ زخمی

حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔افغان شہری کی وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، سیکورٹی گارڈ زخمی ہو گیا، وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے بعد افغان طالبان رجیم عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دے دیا گیا، افغان نژاد حملہ آور نے نیشنل گارڈ اہلکاروں پر فائرنگ کی، امریکی صدر ٹرمپ نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیا، امریکی انتظامیہ نے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستیں غیر معینہ مدت کے لیے روک دیں، یورپی اداروں اور اقوام متحدہ کی متعدد رپورٹس میں طالبان رجیم پر دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کے سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے حالیہ واقعے نے عالمی سطح پر سیکیورٹی تشویشات کو شدید بڑھا دیا ہے، جبکہ متعدد بین الاقوامی رپورٹس نے افغان طالبان رجیم کو دنیا بھر کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

افغان نژاد رحمان اللہ لاکانوال نے وائٹ ہاؤس کے نزدیک امریکی نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار شدید زخمی ہوا۔ امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق حملہ آور 2021 میں امریکہ پہنچا تھا۔سی این این کے مطابق اْس نے 2024 میں پناہ کی درخواست دی تھی، جسے اپریل 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے منظور کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کو دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کا عالمی سطح پر نوٹس لیا جائے۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ نے اس واقعے کے بعدافغان شہریوں کی امیگریشن درخواستیں غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی ہیں۔

یورپی یونین انسٹی ٹیوٹ آف سیکیورٹیز اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق، افغان طالبان حکومت نے دہشت گرد تنظیموں کے کارکنوں کو افغان پاسپورٹ جاری کیے، جس سے ان کے بین الاقوامی سفر میں آسانی پیدا ہوئی۔ ادارے نے خبردار کیا کہ طالبان کا دہشت گرد گروہوں سے بڑھتا تعلق نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے اور مغرب کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان نے مختلف دہشت گرد گروہوں کو “محفوظ پناہ گاہیں ” فراہم کر رکھی ہیں، جو علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔

سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں ڈنمارک اور روس نے بھی “فتنہ الخوارج” کے بڑھتے نیٹ ورکس اور ان کے عالمی عزائم کے حوالے سے عالمی برادری کو سخت خبردار کیا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے عالمی برادری کو آگاہ کرتا آ رہا ہے کہ افغانستان میں تمام دہشتگرد تنظیمیں مضبوط ہو چکی ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر بھی متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ امریکی انخلاء کے بعد امریکی ہتھیار کھلے عام افغانستان میں فروخت ہو رہے ہیں افغانستان میں ایک وار اکانومی جنم لے چکی ہے جسے طالبان حکومت کی سرپرستی حاصل ہیسی این این کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے انخلاء کے وقت تقریباً 7 ارب ڈالر مالیت کا فوجی سامان وہیں چھوڑ دیا تھا۔

اقوام متحدہ کے مطابق ان میں سے بہت سے ہتھیار القاعدہ سے وابستہ گروہوں کے ہاتھوں میں پہنچ چکے ہیں۔یہ ہتھیار بعض جگہ فروخت ہو چکے، جبکہ بڑی تعداد کو سرحدی راستوں سے دہشت گرد گروہوں کو اسمگل بھی کیا گیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن فائرنگ کا واقعہ “ایک بڑے بڑھتے ہوئے عالمی پیٹرن” کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس **یورپ اور شمالی امریکا تک پھیل رہے ہیں۔امریکی اور یورپی رپورٹوں کے مطابق طالبان رجیم کی حمایت سے سرگرم یہ نیٹ ورکس مغرب میں تنہا بھیڑیوں جیسے حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.