حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔کوئٹہ، شدید سردی میں گیس لوڈشیڈنگ، عوام کا جینا محال ہو گیا۔ گیس بحران پر عوامی نمائندوں کے بے بنیاد دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ 9ایم پی اے، 2 ایم این اے ملکر بھی گیس کی رات کے لوڈ شیڈنگ سے نجات نہ دلاسکے، کوئٹہ کے باسی اذیت میں مبتلا ہو گئے، عوامی نمائندے گیس لوڈ شیڈنگ سے نجات نہ دلا سکے تو ترقی و خوشحالی کا انقلاب کیسے لائینگے۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں شدید سردی کے باوجود گیس بحران میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث شہری شدید پریشانی اور مشکلات کا شکار ہیں۔
کوئٹہ شہر کے بیشتر علاقوں میں رات دس بجے گیس مکمل طور پر بند کر دی جاتی ہے اور صبح تقریبا چھ بجے انتہائی کم پریشر کے ساتھ بحال کی جاتی ہے، جس سے گھریلو صارفین، طلبا، مریضوں اور کاروباری طبقہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 9اراکینِ صوبائی اسمبلی اور 2اراکینِ قومی اسمبلی نے بھی گیس کی غیر منصفانہ لوڈشیڈنگ اور بدانتظامی کے خلاف متعدد بار سوئی سدرن گیس انتظامیہ سے رابطہ کیا، مگر تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی عملی پیشرفت نہ ہوسکی۔
عوامی نمائندوں نے شکایت کی کہ گیس کمپنی کے جی ایم کی ہٹ دھرمی اور اختیارات کے غلط استعمال نے منتخب نمائندوں کو بھی بے بس کر رکھا ہے، جبکہ عوام شدید تکلیف میں ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومتی دعوے، ترقیاتی نعرے اور بلند بانگ دعوے اپنی جگہ، مگر عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں حکومتی مشینری مکمل ناکام دکھائی دیتی ہے۔ لوگ سردی کی راتیں بغیر گیس کے گزارنے پر مجبور ہیں اور متبادل ذرائع مہنگے ہونے کے سبب غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔
عوامی نمائندوں اور شہریوں نے وزیرِاعظم، وزیرِتوانائی اور اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ کے لئے ہنگامی بنیادوں پر گیس شیڈول بہتر بنایا جائے، ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے، اور اس سنگین بحران کا مستقل حل نکالا جائے تاکہ شدید سردی میں شہری محفوظ اور سکون سے زندگی گزار سکیں۔