ڈرگس مافیا ایک بار پھر سرگرم، مارکیٹ سے مختلف ادویات غائب، بلیک میں فروغ جاری

حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں ڈرگس مافیا ایک بار پھر سرگرم، میڈیسن مارکیٹ سے مختلف ادویات غائب، بلیک میں فروغ ہونے لگی۔ فارما کمپنیوں کی مصنوعی قلت، مریضوں کی زندگیاں خطرے میں حکومتِ بلوچستان سے فوری نوٹس کا مطالبہ کر دیا گیا۔ کوئٹہ میں ادویات کی قلت نے سنگین بحران کی صورت اختیار کر لی ہے۔ شہر کے میڈیکل اسٹورز اور اسپتالوں میں کینسر، شوگر، بلڈ پریشر اور اینٹی بایوٹکس سمیت متعدد جان بچانے والی ادویات ناپید ہو چکی ہیں، جس کے باعث مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو سخت اذیت کا سامنا ہے۔

کئی فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے قیمتوں میں اضافے کے دبا کے لیے جان بوجھ کر ادویات کی سپلائی بند کر رکھی ہے۔ اہم دواں جیسے انسولین، بلڈ پریشر کنٹرول گولیاں، کینسر کے انجکشنز، اور شدید انفیکشنز کے علاج میں استعمال ہونے والی اینٹی بایوٹکس مکمل طور پر مارکیٹ سے غائب ہیں۔ حتی کہ بڑے اسپتالوں کے قریب موجود میڈیکل اسٹورز بھی خالی شیلفوں کے مناظر پیش کر رہے ہیں۔ڈاکٹرز اور فارماسسٹس نے تصدیق کی ہے کہ متبادل دوائیں یا تو دستیاب نہیں یا ان کی قیمتیں عام مریض کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔

موسم کی تبدیلی کے باعث بخار، نزلہ زکام، سانس اور وائرل انفیکشنز میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر علاج کے لیے بنیادی ادویات نہ ملنے سے اسپتالوں میں علاج کا نظام مفلوج ہو گیا ہے۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومت بلوچستان، وزارتِ صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور بحران پر قابو پایا جائے، ادویات کی سپلائی بحال کی جائے، اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو بلوچستان میں صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.