سبزیاں بھی غریب عوام کی پہنچ سے دور، قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں

حال نیوز۔۔۔۔۔۔کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں مہنگائی سے ستائے ہوئے عوام کیلئے سبزیاں بھی پہنچ سے دور ہو گئیں۔ سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں ہیں۔ انتظامیہ خاموش تماشائی، پرائس کنٹرول کمیٹیاں غیر فعال شہریوں کا حکومت بلوچستان سے فوری ایکشن کا مطالبہ کر دیا۔ کوئٹہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت میں مہنگائی کی بے قابو لہر نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا خصوصا سبزیوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ شہریوں کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی اور غفلت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس پر عوام سراپا احتجاج ہیں۔کوئٹہ کے شہریوں کے مطابق حکومت اور انتظامیہ کے ذمہ دار افسران دفاتر میں بیٹھ کر بیانات دینے تک محدود ہیں، جبکہ عوام مہنگائی کے بوجھ تلے پس رہے ہیں۔سبزی فروشوں کے مطابق بلوچستان میں مقامی فصلوں کی کمی کے باعث زیادہ تر سبزیاں دوسرے صوبوں سے درآمد کی جاتی ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ اخراجات اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات براہ راست عوام پر پڑ رہے ہیں۔ تاہم شہریوں کا مقف ہے کہ اصل مسئلہ انتظامیہ کی نااہلی اور عدم نگرانی ہے۔

پرائس کنٹرول کمیٹیاں غیر فعال ہو چکی ہیں، نرخنامے صرف کاغذوں تک محدود ہیں، اور مارکیٹوں میں من مانی قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں۔شہری حلقوں نے ضلعی انتظامیہ، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ صرف اجلاسوں اور بیانات تک محدود ہیں، عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے۔ سماجی تنظیموں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر موثر پرائس کنٹرول مہم کا آغاز کرے، سبزی منڈیوں اور ریڑھی بازاروں میں کریک ڈان کیا جائے، ناجائز منافع خوروں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں، سبزی منڈیوں اور ریڑھی بازاروں میں قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔شہر میں ٹماٹر 250روپے فی کلو، پیاز 300روپے، آلو 400روپے فی پانچ کلو، مٹر 400روپے، عربی 250، شلجم 150، فراز 200، کدو 250، سبز مرچ 400، لیموں 160روپے، پالک کی گڈی 70روپے، توری 150روپے، بینگن 150روپے، شملہ مرچ 200روپے، بند گوبھی 200روپے، اور پھول گوبھی بھی 200روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ان ہوشربا نرخوں نے غریب طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی پوری کرنا بھی ایک خواب بنا دیا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.