حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں پتا ہوتا یہ ہو گا تو ہم ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لیتے، ضمنی انتخابات ہری پور ہم اپنی سیٹ کا دفاع نہیں کرسکے‘عوام میں مایوسی پھیلے گی کسی اور لائن کی طرف جانے کا سوچیں گے۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہرعلی خان کا کہنا تھا کہ ہمیں پتا ہوتا ہمارا مینڈیٹ اب بھی قبول نہیں کیا جاتا تو ہم ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لیتے‘ضمنی انتخابات ہری پور ہم اپنی سیٹ کا دفاع نہیں کرسکے‘عوام میں مایوسی پھیلے گی کسی اور لائن کی طرف جانے کا سوچیں گے‘ایک جیتی ہوئی سیٹ نہ دینا یہ جمہوریت کے لیے اچھا شگون نہیں
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اشتعال دلوایا جاتا ہے مگر ہم اشتعال میں نہیں آئینگے۔ہمیں پتا ہوتا ہمارا مینڈیٹ اب بھی قبول نہیں کیا جاتا تو ہم ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لیتے۔ضمنی انتخابات ہری پور ہم اپنی سیٹ کا دفاع نہیں کرسکے۔اب کے پی کے میں اور ہر جگہ کسی اور کا سکہ چل رہا یہ ظلم ہے۔ ہم نے اتنی سختیاں برداشت کیں ہم سمجھ رہے تھے اس دفعہ ہمارا مینڈیٹ قبول کیا جائے گا‘ مگر ہمیں میلی آنکھ سے دیکھا گیا اور مینڈیٹ قبول نہیں کیا گیا۔
بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ عوام میں مایوسی پھیلے گی کسی اور لائن کی طرف جانے کا سوچیں گے۔ایک جیتی ہوئی سیٹ نہ دینا یہ جمہوریت کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہری پور کا ہر پولنگ سٹیشن جیتے ہمیں ستائیس ہزار کی لیڈ تھی‘ہری پور کی ہماری جیتی ہوئی سیٹ ہمیں نہیں دی گئی‘ہمیں اشتعال دلوایا جاتا ہے مگر ہم اشتعال میں نہیں آئینگے‘ہر مرتبہ امید سے آتے ہیں کہ ملاقات ہوگی مگر صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عدالتی آرڈر کے باوجود ملاقات نہیں کروائی جارہی‘چار نومبر کو آخری ملاقات کروائی گئی تھی‘بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوگی جو وہ بولیں گے من و عن عمل ہوگا‘ہمارے ساتھ جو رویہ رکھا گیا وہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے‘ہم ویڈیو رکھنے والے نہیں ہم عوامی مینڈیٹ سے آتے ہیں‘یہ سیٹ اپ نہیں رہے گا یہ جو ترمیم کی گئی اسکے بل بوتے پر چل رہے ہیں‘پاکستان میں جمہوریت چلنی ہی چلنی ہے‘ پشاور میں 26 نومبر کی دعائیہ تقریب ہوگی۔