حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔مقتدر قوتوں نے سقوط ڈھاکا سے سبق نہیں سیکھا، 1971کی طرز پر طاقت چھینی، ملک سیکیورٹی، معیشت، سیاست اور معاشرتی لحاظ سے شدید تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، حکومت پرانی غلطیاں دہرا کر مختلف نتائج کی توقع رکھنے کے بجائے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھے اور اصلاحی اقدامات کرے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے حکومت پر تاریخ کی سنگین ترین غلطیوں کو دہرانے اور سقوطِ ڈھاکا سے کوئی سبق نہ سیکھنے کا الزام لگا تے ہوئے کہا ہے کہ سقوطِ ڈھاکا وہ سانحہ تھا، جو عوامی لیگ کے مینڈیٹ کے ظالمانہ انکار، منظم جبر، اور مشرقی پاکستان کے عوام کے ساتھ ظالمانہ، سوتیلی ماں جیسے برتا کی وجہ سے پیش آیا تھا۔
پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہونے والے ضمنی انتخابات پر ردِعمل دیتے شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ ملک سیکیورٹی، معیشت، سیاست اور معاشرتی لحاظ سے شدید تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اور حکومت پرانی غلطیاں دہرا کر مختلف نتائج کی توقع رکھنے کے بجائے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھے اور اصلاحی اقدامات کرے۔شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ جس طرح عوامی لیگ نے ایک بھاری اکثریت حاصل کی تھی، اسی طرح پی ٹی آئی نے بھی 8فروری 2024کے عام انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی، مگر اسے آدھی رات کے بڑے انتخابی ڈاکے کے ذریعے اپنے مینڈیٹ سے محروم کر دیا گیا
شیخ وقاص کا کہنا تھا کہ اسکے بعد پی ٹی آئی امیدواروں کیخلاف کمزور بہانوں پر نااہلیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا، ساتھ ہی انہیں مخصوص نشستوں سے بھی محروم رکھا گیا، ایسا سب کچھ اسلئے کیا گیا کہ حکومت کو دو تہائی اکثریت مل سکے، تاکہ وہ ذاتی مفاد، جمہوریت دشمنی اور انتہائی متنازع آئینی ترامیم منظور کروا سکے حیرت ہے کہ موجودہ حکمران کیوں 1971کے اسی تباہ کن ماڈل کو دہرانے پر تلے ہوئے ہیں ایسے کنٹرولڈ اور دھاندلی زدہ انتخابات کبھی بھی پی ٹی آئی یا اس کے بانی عمران خان کی مقبولیت کا حقیقی پیمانہ نہیں ہو سکتے، ایک ایسی مقبولیت جو اس وقت واضح ہو گئی تھی جب انکے تمام سابق سیاسی حریف، ریاستی اداروں کی مدد سے انکا راستہ روکنے کیلئے متحد ہو گئے تھے۔