این اے 18ہری پور میں فارم 45کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار شہر ناز عمر ایوب خان 27ہزار ووٹوں کی واضح برتری سے کامیابی حاصل کر چکی تھیں، لیکن الیکشن کمیشن نے حسبِ روایت رات کی تاریکی میں عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا سیاہ چہرہ ایک بار پھر پوری قوم کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتظامی اور عملی، دونوں سطحوں پر مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، جسکے باعث پورے انتخابی عمل کی شفافیت، غیرجانبداری اور ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اگر یہی انتخابات کرانے کا معیار ہے تو بہتر تھا کہ الیکشن کمیشن الیکشن کروانے کے بجائے براہِ راست نوٹیفکیشن جاری کر دیتا، تاکہ عوام کو دھوکے میں نہ رکھا جاتا۔اسد قیصر نے کہا کہ عمران خان کی ہدایت پر پاکستان تحریک انصاف نے ضمنی انتخابات کا باضابطہ بائیکاٹ کیا اور عوام نے اس فیصلے کی بھرپور تائید کی۔ موصولہ رپورٹس کے مطابق ان حلقوں میں ووٹر ٹرن آٹ محض 15سے 18فیصد رہا، جبکہ 80فیصد سے زائد عوام نے ان فراڈ انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے گھروں میں رہنے کو ترجیح دی۔
رہنماء پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ایسے انتخابات کسی طور عوامی نمائندگی کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان غیرشفاف نتائج کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے، کیونکہ انتخابات کا بنیادی مقصد عوام کو آزادانہ طور پر اپنی قیادت منتخب کرنے کا حق دینا ہے، لیکن بدقسمتی سے موجودہ حکومت اور اس کے ماتحت الیکشن کمیشن ایسا ماحول دینے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں جہاں عوام بلا خوف و خطر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں۔
اسد قیصر کے مطابق اغوا، گرفتاریوں، خوف و ہراس، انتخابی مہم پر پابندیوں، ووٹر دھاندلی اور فارم 47میں ردوبدل موجودہ الیکشن کمیشن کا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک نیا، خودمختار اور قابلِ اعتماد الیکشن کمیشن تشکیل دینا ناگزیر ہو چکا ہے، جو ایسے افراد پر مشتمل ہو جو انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد بحال کر سکیں۔آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں سیاست پر عائد تمام غیر آئینی پابندیاں ختم کی جائیں اور عوام کو آزادانہ طور پر سیاسی عمل میں حصہ لینے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔