چین نے امریکہ سے جوہری ہتھیاروں میں کمی کا مطالبہ کر دیا

حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ چین نے امریکہ سے جوہری ہتھیاروں میں کمی کا مطالبہ کر دیا، چین جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی پر قائم ہے، امریکا کو اپنے جوہری ہتھیاروں میں نمایاں کمی کرنی چاہیے۔  چین نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ بطور سب سے بڑی جوہری طاقت اپنی جوہری تخفیفِ اسلحہ کی ذمہ داریاں سنجیدگی سے پوری کرے۔ یہ ردِعمل امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) کی ایک مجوزہ رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین نے منگولیا کی سرحد کے قریب مقامات پر 100 سے زائد بین البراعظمی بیلسٹک میزائل نصب کر دیے ہیں اور وہ اسلحہ کنٹرول مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے بیجنگ میں باقاعدہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکا، جو دنیا کا سب سے بڑا جوہری ذخیرہ رکھنے والا ملک ہے، پر لازم ہے کہ وہ جوہری تخفیفِ اسلحہ کی خصوصی اور اولین ذمہ داری ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو اپنے جوہری ہتھیاروں میں خاطر خواہ کمی کرنی چاہیے تاکہ دیگر جوہری ممالک بھی اس عمل میں شامل ہو سکیں۔پینٹاگون کی مسودہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے ممکنہ طور پر منگولیا کے قریب تین علاقوں میں 100 سے زائد ٹھوس ایندھن سے چلنے والے ڈی ایف-31 بین البراعظمی میزائل نصب کیے ہیں۔

شکاگو میں قائم غیر منافع بخش ادارے، بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس کے مطابق چین اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں دیگر تمام جوہری طاقتوں کے مقابلے میں تیزی سے توسیع اور جدید کاری کر رہا ہے۔تاہم چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وہ مذکورہ امریکی رپورٹ سے آگاہ نہیں ہیں، اور یہ کہ امریکا اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے دعووں کا مقصد امریکا کے اپنے جوہری ہتھیاروں کی جدید کاری کو جواز فراہم کرنا اور عالمی اسٹریٹجک استحکام کو نقصان پہنچانا ہے۔

پینٹاگون رپورٹ کے مطابق 2024 میں چین کے جوہری وارہیڈز کی تعداد 600 کے لگ بھگ تھی، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں سست رفتار پیداوار کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین 2030 تک ایک ہزار سے زائد جوہری وارہیڈز رکھنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔ اسکے برعکس امریکا کے پاس اس وقت تقریباً 5,177 جوہری وارہیڈز موجود ہیں۔چینی ترجمان لن جیان نے واضح کیا کہ چین جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنیکی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے اور اس کی جوہری حکمتِ عملی دفاعی نوعیت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کسی بھی ملک کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.