بلوچستان کے ملازمین ڈی آر اے اور مطالبات کیلئے سراپا احتجاج

حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ بلوچستان کے ملازمین ڈی آر اے اور مطالبات کیلئے سراپا احتجاج ہیں، 30 دسمبر کو قلم چھوڑ ہڑتال اور 31 دسمبر کو صوبہ بھر میں دفاتر کی تالہ بندی کریں گے۔ بلوچستان گرینڈ الائنس کے مرکزی آرگنائزر پروفیسر عبدالقدوس کاکڑاور جنرل سیکرٹری حاجی علی اصغر بنگلزئی، رشیدہ سمالانی نے کہا ہے کہ ہم اپنے مطالبات کے حصول اور ڈی آر اے کے لئے احتجاج کا اعلان کررہے ہیں 30 دسمبر کو قلم چھوڑ ہڑتال اور 31 دسمبر کو صوبہ بھر میں دفاتر کی تالہ بندی کرنے کے ساتھ ساتھ مطالبات کے حق میں صوبہ بھر کے پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی کیمپ لگائیں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ڈی آر اے سمیت دیگر مطالبات کے حصول ریلوے اسٹیشن کوئٹہ سے نکالی گئی احتجاجی ریلی جوکہ مختلف شاہراہوں سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے پہنچ کر احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کرگئی۔جس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر رحمت اللہ زہری،سرور مینگل، ہیبت خان، حاجی شفاء مینگل، علی بخش جمالی، یونس کاکڑ، پروفیسر آغا زاہد سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ موجودہ حکومت گزشتہ کئی عرصے سے ملازمین سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔

بلوچستان بھر کے لاکھوں ملازمین کے کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کرنے کی بجائے انہیں صرف دلاسے دے رہی ہے جس کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری نے غریب ملازمین کا جینا محال کر رکھا ہے حکومت آئے روز نت نئے منصوبے بنارہی ہے ملازمین کو ان کا جائز حق دینے سے قاصر ہیں جس کیو جہ سے ملازمین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ہم نے اپنے حقوق کے حصول کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ میڈیا کے ذریعے حکومت اور حکام بالا تک اپنی آواز پہنچائی ہے لیکن تا حال کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے جس کی ایک بار پھر ہم سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں مقررین نے کہا کہ اگر حکومت نے ڈی آر اے سمیت ہمارے مطالبات کے حصول کو یقینی نہ بنایا تو اپنے احتجاج کو وسعت دیں گے اس لئے آج ہم نے احتجاجی شیڈول کا اعلان کیا ہے۔

30 دسمبر کو قلم چھوڑ ہڑتال اور 31 دسمبر کو صوبہ بھر میں دفاتر کی تالہ بندی کرنے کے ساتھ ساتھ مطالبات کے حق میں صوبہ بھر کے پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی کیمپ لگائیں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی کیونکہ بلوچستان کے ملازمین نے ہمیشہ اپنے جائز مطالبات اور حقوق کے حصول کیلئے آئینی، جمہوری جدوجہد کرتے ہوئے پر امن احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے اس لئے حکومت ہوش کے ناخن لے اور ہمیں ہمارا حق دیں بصورت دیگر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.