بلوچستان کے سکولوں میں قرآن پاک کی تعلیم لازمی قرار

حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ بلوچستان کے سکولوں میں قرآن پاک کی تعلیم لازمی قرار دیدی گئی، عدالت عالیہ کے احکامات کے بعد حکومت کی جانب سے بلوچستان کے تمام سرکاری و غیر سرکاری سکولوں میں پہلی جماعت سے بارہویں جماعت تک قرآن پاک ناظرہ اور بنیادی ترجمہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کوئٹہ کے قانون دان عبدالرحیم کاکڑ گاجیزئی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ عدالت عالیہ کے احکامات کے بعد حکومت کی جانب سے بلوچستان کے تمام سرکاری و غیر سرکاری سکولوں میں پہلی جماعت سے بارہویں جماعت تک قرآن پاک ناظرہ اور بنیادی ترجمہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔

بلوچستان اسمبلی نے کمپلسری ٹیچنگ آف دی ہولی قرآن ایکٹ 2023 ایکٹ IIIآف 2023منظور کیا ہے جوخوش آئند اقدام ہے۔میروائس، عبدالقہار کاکڑ،محمد سلیم کھوکھر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ کے بینچ سابق چیف جسٹس جسٹس نعیم اختر افغان اور موجود جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان، جسٹس عامر نواز کے ڈویژن بینچ کے حکم کے نتیجے میں بلوچستان کمپلسری ٹیچنگ آف دی ہولی قرآن ایکٹ 2023ء، ایکٹ III آف 2023 بلوچستان اسمبلی سے منظور ہوا پھر 27 مئی 2024ء کو بلوچستان حکومت نے ایکٹ کے تحت تفصیلی قواعد جاری کئے جس سے نفاذ کا عملی طریقہ کار طے ہوا۔

اس انتظامی مرحلے پر صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی اور سابق سیکرٹری تعلیم صالح محمد ناصر نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2026 ء کے تعلیمی سال میں تمام سرکاری و نیم سرکاری سکولوں میں کتابیں دستیاب ہوں گی اور تدریس کا عمل شروع ہوگا۔ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین کی نگرانی میں کتابوں کی ترتیب و تدوین اور چھپائی کا عمل جاری ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ پہلی جماعت سے لیکر بارہویں جماعت تک قرآن پاک ناظرہ اور بنیادی ترجمہ لازمی قرار دینا خوش آئند اقدام ہے جس سے طلباء و طالبات دینی تعلیم حاصل کرکے اپنی دنیا اور آخرت کو سنوارسکیں گے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.