سجاد علی کی آواز کا جادو ایک بار پھر چل گیا، عوام چھوم اٹھنے پر مجبو ر

حال نیوز۔۔۔۔۔سجاد علی کی آواز کا جادو ایک بار پھر چل گیا، عوام چھوم اٹھنے پر مجبو ر ہو گئے، ورلڈ کلچر فیسٹیول میں معروف گلوکار سجاد علی، ارمان رحیم اور منیب خان کی آواز نے سحر تاری کر دیا۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 39روزہ ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025 کے 23 ویں روز پرتگال کے سفیر نے آرٹس کونسل کا دورہ کیا اس موقع پر پرتگال سفارت خانے کے پولیٹیکل اینڈ اکنامکس آفیسر اور عہدے دار سید امین الدین فقیر سمیت ورلڈ کلچر فیسٹیول میں پرفارم کرنے والے پرتگالی میوزیشن ریکارڈو پاسوس بھی شریک تھے۔ جبکہ فیسٹیول میں ٹاک سیشن، فائن آرٹ ورکشاپ،فلم اسکریننگ، تھیٹر پلے اور میوزکل کانسرٹ میں معروف گلوکار سجاد علی، ارمان رحیم اور منیب نے اپنی آواز کا جادو چلایا۔

صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے ملاقات کے دوران پرتگالی سفیرکو سندھ کی قدیم ثقافت کی عکاس ”اجرک“ سندھی ٹوپی اور گلدستہ پیش کیا جبکہ پاکستان اور پرتگال کے 75سالہ سفارتی تعلقات پر پرتگالی سفیر نے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کو میڈل کی چین کا تحفہ دیا۔ پرتگال کے سفیر نے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہاکہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی فنون لطیفہ کے فروغ کے لیے کوشاں ہے، احمد شاہ بہتر دنیا کی تخلیق کے لیے زبردست کام کررہے ہیں، احمد شاہ کی ثقافتی کاوشوں نے مجھے بے حد متاثر کیا،آرٹس کونسل کے ورلڈ کلچر فیسٹیول میں پرتگال کے فنکار بھی حصہ لے رہے ہیں، مستقبل میں بھی پرتگال کے مزید فنکار آرٹس کونسل کراچی میں پرفارم کریں گے۔

صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ آرٹس کونسل نا صرف کراچی بلکہ پاکستان بھر میں ثقافتی پروگرامز کا انعقاد کرتا ہے، میری دلچسپی ہمیشہ ثقافت کو فروغ دینے میں رہی ہے، ہم ایک جمہوری ادارہ ہیں، آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے ممبران مجھ پر اعتماد کرتے ہیں، میرے پاس 300 نوجوانوں پر مبنی ٹیم ہے جو میرے شانہ بشانہ کام کرتی ہے، آرٹ اسکول سمیت ہماری 6اکیڈمیز کام کررہی ہیں جہاں مصوری، میوزک، ڈانس، تھیٹر،ٹیکسٹائل ڈیزائننگ کے طلباء تربیت حاصل کرتے ہیں، گزشتہ برس ہم نے 44ممالک کو مہمان بنایا تھا اس بار 142 ممالک ورلڈ کلچر فیسٹیول کا حصہ ہیں، ورلڈ کلچرفیسٹیول میں آرٹس کونسل کی اکیڈمی کے طلباء بین الاقوامی فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں سے مستفید ہورہے ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.