مزید کہا کہ اجتماع کے انعقاد کے لئے دن رات کارکنوں نے جس طرح محنت کی اور پورے اجتماع کو فقید المثال بنایا اب بدل دو نظام کے جذبے کیساتھ اس بستی کے مکین اپنے علاقوں کو روانہ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پورا ملک زخمی ہے،یہاں قائدین نے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی،آئین جو قومی دستاویز ہے اسے فوجی اور جمہوری قیادت نے کھلواڑ بنادیا، بزدل حکمرانوں نے حقوق کو اسٹبلشمنٹ کے سامنے ڈھیر کردیا،پولیس عوام کو ان کے حق سے محروم کر رہی،عوام لاپتہ ہو رہے ہیں، ان کے تجربات نے معیشت کو تباہ کیا ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ فیڈریشن میں مضبوط اکائیوں کا حق تسلیم کیا جائے،عوام میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے،سیاست تباہی کی کنارے کھڑی ہے،شریف اور زرداری خاندان کی سیاست دفن ہو رہی ہے۔