حال نیوز۔۔۔۔۔بلوچستان میں حقوق مانگنے والے جیلوں میں بند ہیں، بلوچستان کے بڑے عوامی اجتماعی مسائل ماورائے آئین وقانون غائب کیے گی، بلوچستان کوحقوق عوام کوعزت واحترام،روزگاروتعلیم اورمعاشی حقوق دیں۔ امیرجماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے بلوچستان کامقدمہ مینار پاکستان اجتماع عام میں ملک بھرکے لاکھوں عوام کے سامنے پیش کردیاعوام وقائدین نے کھڑے ہوکرتائیدوحمایت اورہرقسم کے تعاون کایقین دلایا۔
مولانا ہدایت الرحمن بلوچ امیرجماعت اسلامی بلوچستان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے بڑے عوامی اجتماعی مسائل ماورائے آئین وقانون غائب کیے گیے لاپتہ افراد،جائزحقوق کیلئے آوازبلندکرنے والے سیاسی قیدی،وسائل پردسترس نہ دینا،سی پیک سیندک ریکوڈک سمیت دیگرپراجیکٹس کے ثمرات سے محرومی، چیک پوسٹیں،سول حکومت کے بجائے اسٹبلشمنٹ کی مسلط حکمرانی ہیں۔ حکمران بلوچستان کونوگو،مقبوضہ علاقہ نہ بنائے بلکہ بلوچستان کوحقوق عوام کوعزت واحترام،روزگاروتعلیم اورمعاشی حقوق دیں۔
مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کوچیک پوسٹوں،تھانوں کے بجائے مقتدرقوتوں اسلام آباد کے حکمرانوں نے اہلیان بلوچستان پرتعلیم روزگار،تجارت بارڈرز،شاہراہیں بندکیے ہیں۔جائزحقوق مانگنے والی بہنوں کوجیل میں بندکیاہے بلوچستان میں احتجاج،جمہوری سیاسی مذاہمت پرغیراعلانیہ پابندی لگائی گئی ہیں بارڈرز،چیک پوسٹوں واسمبلی کے اندراسٹبلشمنٹ کی حکمرانی واختیارہے جمہوری قوتوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں معصوم عوام کوعلاج و تعلیم اورروزگارکی سہولت میسرنہیں قانونی تجارت کیلئے بارڈرزبندکیے گیے ہیں۔
بلوچستان میں عوام کے بجائے اسٹبلشمنٹ واسلام کے حکمرانوں کے کاروبار وتجارت اورحکومت چل رہی ہے عوام کی جان ومال اورتجارت محفوظ نہیں۔بے گناہ لوگوں کوماورائے قانون وعدالت غائب کیے جاتے ہیں انہیں رہائی کیلئے قانونی عدالتی حقوق دیے جاتے ہیں نہ ہی جرم بتائے جاتے ہیں جماعت اسلامی بلوچستان نے حقوق کے حصول ظلم وجبر لاقانونیت کیخلاف کوئٹہ سے اسلام آباد لانگ مارچ کیاحکمرانوں نے مطالبات مانتے کیلئے 6ماہ کاوقت مانگامگرتاحال اس پرعمل نہیں ہواہم دوبارہ اجتماع عام کے لاکھوں عوام کے سامنے اپنے جائز مطالبات اورحقوق کاچارٹرپیش کررہے ہیں حکمران حقوق بلوچستان لانگ مارچ کے جائز مطالبات تسلیم کریں۔