مائنز منرل ایکٹ ، اپوزیشن اور حکومت بلوچستان کے درمیان اتفاق ہو گیا

حال نیوز۔۔۔۔۔ بلوچستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مائنز اینڈ منرل بل سے متعلق مذاکرات کا میاب ہو گئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہوبے والے مذاکرات کے بعد میر سرفراز بگٹی وزیر اعلی بلوچستان نے اپوزیشن رہنمائوں کے ہمرا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ معدنی وسائل کے ذریعے صوبے کی معیشت کو ترقی دی جائے تاکہ ان کے ثمرات براہ راست عوام تک پہنچیں۔

 

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد مائنز اینڈ منرل ایکٹ پہلے ہی قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے اس لیے اب صرف اس میں ترامیم کی جا سکتی ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ایوان کے اندر اور باہر موجود تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ایکٹ کو دوبارہ اسمبلی میں لایا جائے گا تاکہ کسی کو کوئی تحفظات باقی نہ رہیں۔

 

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ عوامی حقوق سے متعلق کسی بھی قانون سازی پر حکومت سب کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہے تاکہ فیصلے شفاف، جمہوری اور عوام دوست ہوں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل صوبے کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کے بہتر استعمال کے لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی قوتیں مل کر کام کریں ۔

 

تمام اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مائنز اینڈ منرل ایکٹ پر کافی عرصے سے بات چیت جاری تھی اس کے منظور ہونے کے بعد مختلف اعتراضات سامنے آئے تھے تاہم ہم نے واضح کیا تھا کہ اپوزیشن سمیت تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کریں گے۔ ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے مائنز اینڈ منرل ایکٹ پر عمل درآمد آج سے روک دیا گیا ہے اور اب یہ ایکٹ قرارداد کی صورت میں دوبارہ ایوان میں لایا جائے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے اراکین شامل ہوں گے تاکہ ترامیم اور فیصلے مشترکہ اتفاق رائے سے کیے جا سکیں ۔

 

  • وزیر اعلی بلوچستان کی مائنز اینڈ منرل ایکٹ پر حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق بارے میڈیا ٹاک کے دوران اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری، اراکین صوبائی اسمبلی خیر جان بلوچ، اصغر ترین، میر جہانزیب خان مینگل ، رحمت صالح بلوچ، مولانا ہدایت الرحمٰن، زمرک خان اچکزئی، صوبائی وزراء میر محمد صادق عمرانی، میر سلیم خان کھوسہ، بخت محمد کاکڑ، مشیر مینا مجید بلوچ، میر برکت رند، حاجی علی مدد جتک، بھی موجود تھے۔
You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.