حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ معروف سیاستدان بسم اللہ خان کاکڑ فانی دنیا سے کوچ کر گئے، پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما بسم اللہ خان کاکڑ طویل علالت کے بعد آج انتقال کر گئے۔ پاکستان کے معروف سیاستدان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما بسم اللہ خان کاکڑ طویل علالت کے بعد آج 79برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔مرحوم گزشتہ چار برس سے جگر کے مرض میں مبتلا تھے اور ان دنوں علاج کی غرض سے کراچی میں مقیم تھے۔بسم اللہ خان کاکڑ 1946 میں ضلع قلعہ عبداللہ کے گاں حبیب زئی میں ایک دینی عالم حاجی نظر محمد آکا کے گھر پیدا ہوئے۔
بسم اللہ خان کاکڑ نے ابتدائی تعلیم گاں حبیب زئی، گلستان سے حاصل کی جبکہ اعلی تعلیم پنجاب سے مکمل کی اور 1967 میں پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی میں گریجویشن کیا۔تعلیمی دور میں ہی انہوں نے قوم پرست سیاست میں قدم رکھا۔ 1968 میں جب پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن (PSF)کی بنیاد رکھی گئی تو بسم اللہ خان کاکڑ کو اس کا پہلا مرکزی سیکریٹری منتخب کیا گیا۔بعد ازاں وہ عملی سیاست میں آئے، جسکے نتیجے میں یحییٰ خان کے دورِ حکومت میں انہیں دو سال تک لسبیلہ میں جام آف لسبیلہ کے سرکاری ہاسٹل میں قید رکھا گیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ساڑھے چار سال افغانستان میں جلاوطنی کی زندگی بھی گزاری۔ جلاوطنی کے دوران انہوں نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 150سے زائد پشتون اور بلوچ نوجوانوں کو اعلی تعلیم کے لیے کابل اور ماسکو بھجوایا۔1973 میں خان عبدالصمد خان کے قتل کے الزام میں بسم اللہ خان کاکڑ نے دو سال سے زائد قلعہ کوئٹہ جیل میں قید کاٹی۔ بعد ازاں جب خان عبدالولی خان کی قیادت میں نیشنل عوامی پارٹی(نیپ)تشکیل پائی تو بلوچستان میں میر غوث بخش بزنجو کو پارٹی صدر اور بسم اللہ خان کاکڑ کو جنرل سیکریٹری مقرر کیا گیا۔
نیپ کے خاتمے کے بعد جب میر غوث بخش بزنجو نے پاکستان نیشنل پارٹی (PNP)کی بنیاد رکھی تو بسم اللہ خان کاکڑ کو اس کا مرکزی جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی انہیں ایک بار پھر ڈیڑھ سال سے زائد جلاوطنی کی زندگی گزارنی پڑی۔بعد ازاں 1997 کے عام انتخابات میں وہ ضلع قلعہ عبداللہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے اور بلوچستان سے پیپلز پارٹی کے واحد رکن اسمبلی تھے۔ وہ تقریبا دو سال سابق وزیرِ اعلی سردار اختر جان کی صوبائی کابینہ کے رکن بھی رہے۔اس دوران ان کے پاس S&GAD، واسا، بی ڈی اے اور پارلیمانی امور کے محکمے تھے۔
بسم اللہ کاکڑ بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور تادمِ وفات پیپلز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور بلوچستان کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکریٹری کے عہدے پر فائز رہے۔مرحوم نے گاں حبیب زئی، گلستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ آج بھی وہاں گرلز کالج اور طلبہ کے لیے ٹیکنیکل کالج قائم ہیں۔بسم اللہ خان کاکڑ کے آٹھ بچے ہیں، جن میں چار بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین منگل کے روز ان کے آبائی قبرستان، گاں حبیب زئی، قلعہ عبداللہ میں کی جائے گی۔سیاسی تجزیہ کاروں نے بسم اللہ خان کاکڑ کے انتقال کو بلوچستان کی سیاست کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔