حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ سڈنی حملہ، نئے انکشافات، ملزمان کے پاس مختلف بم بھی موجود تھے، حملہ آور بندوقیں کمبل میں لپیٹ کر گھر سے باہر لائے، سامان میں پائپ بم، ٹینس بال بم و دیگر دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد بھی موجود تھا، حملے سے دو روز قبل بونڈائی بیچ کا جائزہ لینے بھی گئے تھے۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے بونڈئی بیچ پر ہونے والے حملے کی تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی جس میں میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
عالمی میڈیا کے مطابق دہشتگردی کے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ میں آسٹریلوی پولیس نے دونوں حملہ آوروں سے متعلق دستاویزات عدالت میں جمع کرائی ہیں، جن میں بتایا گیا کہ ساجد اکرم اور نوید اکرم نے آسٹریلیا میں ہی تکنیکی ٹریننگ حاصل کی، حملے سے قبل حملہ آوروں نے بیچ کا وزٹ بھی کیا اور وہ حملے سے دو روز قبل بونڈائی بیچ کا جائزہ لینے گئے تھے۔
رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور کئی ماہ سے حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور حملے سے پہلے اسلحہ استعمال کرنے کی تربیت بھی لیتے رہے، بھارتی شہری ساجد اکرم اور اس کا بیٹا نوید اکرم حملے میں استعمال ہونے والی بندوقیں کمبل میں لپیٹ کر گھر سیباہر لائے، ان کے سامان میں پائپ بم، ٹینس بال بم اور دیگر دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد بھی موجود تھا۔
ایک حملہ آورکے فون سے ملنے والی ویڈیو میں دونوں داعش کے جھنڈے کے سامنے بیٹھے دکھائی دیئے، اکتوبر میں ریکارڈ کی جانے والی ویڈیو میں دونوں نے یہودیوں کے خلاف جذبات کا اظہار کیا۔علاوہ ازیں فلپائن کے پولیس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ بونڈائی بیچ فائرنگ میں ملوث حملہ آور باپ بیٹے میں سے والد نے اسلحے میں دلچسپی ظاہر کی اور وہ شہر میں واقع ایک اسلحے کی دکان میں گئے۔
فلپائنی پولیس اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ فائرنگ سے قبل کے ہفتوں میں دونوں حملہ آوروں کی سرگرمیاں کیا تھیں کیوں کہ ساجد اکرم اور ان کے بیٹے نوید اکرم نے ڈاوا سٹی کے ایک ہوٹل میں چار ہفتے قیام کیا اور 28نومبر کو آسٹریلیا واپس روانہ ہوئے، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کوئی پہلو نظرانداز نہ ہو، ہم آسٹریلوی حکومت کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کسی ممکنہ دہشت گرد خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔