پاکستان انٹرونیشنل ایئر لائنز نجکاری عمل فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا

حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان انٹرونیشنل ایئر لائنز نجکاری عمل فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا، قومی ایئرلائن کی فروخت کے لیے نیلامی کی بولیاں آج جمع کرائی جائیں گی، نیلامی کا عمل ٹی وی نیٹ ورکس پر براہِ راست دکھایا جائے گا، خریداری کے لیے تین کنسورشیم بولی کے عمل میں حصہ لیں گے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں قومی ایئرلائن کی فروخت کے لیے نیلامی کی بولیاں آج جمع کرائی جائیں گی۔ نجکاری کمیشن کے مطابق بولی کے عمل کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ اس تاریخی مرحلے کو شفاف بنانے کے لیے نیلامی کا عمل ٹی وی نیٹ ورکس پر براہِ راست دکھایا جائے گا۔

نجکاری کمیشن کے حکام کے مطابق پی آئی اے کی خریداری کے لیے تین کنسورشیم بولی کے عمل میں حصہ لیں گے۔ پہلے کنسورشیم میں لکی سیمنٹ، حب پاور، کوہاٹ سیمنٹ اور میٹرو وینچرز شامل ہیں۔ دوسرے کنسورشیم میں عارف حبیب گروپ، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی اسکولز اور لیک سٹی ہولڈنگز شامل ہیں، جبکہ تیسرے کنسورشیم کی نمائندگی ایئر بلیو پرائیویٹ لمیٹڈ کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق فوجی فرٹیلائزرز پر مشتمل چوتھی کنسورشیم نیلامی کے عمل سے دستبردار ہو چکی ہے۔کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ بولیاں صبح 10:45 سے 11:15 بجے تک جمع کی جائیں گی، جنہیں بعد ازاں ایک شفاف باکس میں محفوظ کیا جائے گا۔ بولیاں سہ پہر 3:30 بجے کھولی جائیں گی۔ اگر بولیاں مقررہ ریفرنس قیمت سے زیادہ ہوئیں تو کھلی نیلامی کا مرحلہ ہوگا، جبکہ ریفرنس قیمت سے کم ہونے کی صورت میں زیادہ بولی لگانے والے کنسورشیم کو ترجیح دی جائے گی۔

حکام کے مطابق کامیاب بولی کی صورت میں وفاقی کابینہ چند دنوں کے اندر نیلامی کی منظوری دے گی، جس کے بعد بولی دہندگان کے ساتھ قانونی دستاویزات پر دستخط کیے جائیں گے۔ نجکاری کمیشن 90 دن کے اندر جائیدادوں،واجبات اور دیگر منتقلی سے متعلق تمام امور مکمل کریگا۔ طے شدہ طریقہ کار کے تحت نیلامی پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی بنیاد پر کی جائیگی، جن کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد پی آئی اے کو دیا جائیگا، جبکہ صرف 7.5 فیصد قومی خزانے میں جمع ہوگا۔ ابتدائی طور پر حکومت 25 فیصد حصص اپنے پاس رکھے گی، تاہم کامیاب بولی دہندہ ادائیگی کے بعد یہ باقی حصص خریدنے کا اختیار بھی رکھے گا۔ پی آئی اے کی نجکاری کو حکومت کی وسیع تر معاشی اصلاحات کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد قومی ایئرلائن کی کارکردگی بہتر بنانا اور مالی بوجھ کم کرنا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.