حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اندرونی اختلافات بڑھ گئے، تحریک تحفظِ آئین پاکستان شدید اندرونی اختلافات کا شکار، حکمتِ عملی پر سوالات اٹھ گئے، تحریک کے اندردو واضح بیانیے موجود، ایک دھڑا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے احتجاج، مزاحمت اور اسلام آباد مارچ کا حامی ہے، مفاہمتی گروپ مذاکرات کو واحد جمہوری اور قابلِ عمل راستہ قرار دے رہا ہے۔ تحریک تحفظِ آئین پاکستان اس وقت شدید اندرونی اختلافات کی لپیٹ میں آ چکی ہے، جہاں قیادت اور کارکنان کے درمیان پالیسی اور آئندہ لائحہ عمل پر واضح تقسیم سامنے آ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی جانب سے ہدایات جاری ہونے کے باوجود تحریک کی صفوں میں غیر یقینی اور تذبذب بدستور برقرار ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک کے اندر اس وقت دو واضح بیانیے موجود ہیں، ایک دھڑا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے احتجاج، مزاحمت اور اسلام آباد مارچ کا حامی ہے، جبکہ کچھ رہنما حکومت کو گرانے کے لیے سڑکوں پر آنے کے مؤقف پر قائم ہیں۔دوسری جانب تحریک کے اندر موجود مفاہمتی گروپ مذاکرات کو واحد جمہوری اور قابلِ عمل راستہ قرار دے رہا ہے۔
اس دھڑے کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی نظام کو بچانے اور ملک کو مزید عدم استحکام سے محفوظ رکھنے کیلئے بات چیت ناگزیر ہے۔ ذرائع کے مطابق اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ تحریک تحفظِ آئین پاکستان کی مجموعی حکمتِ عملی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ فیصلہ کن مرحلے پر پہنچنے کے باوجود قیادت تاحال کسی متفقہ اور واضح لائحہ عمل کا اعلان نہیں کر سکی، جس کے باعث کارکنان میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اندرونی اختلافات پر قابو نہ پایا گیا تو تحریک کو آئندہ دنوں میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔