نوشین شاہ کے مطابق میرے والدین کا تعلق صوبہ خیبرپختونخواہ سے ہے لیکن میری پیدائش سندھ کے شہر کراچی میں ہوئی اور ان کی پرورش بھی وہیں ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ میرے والد ٹرانسپورٹر ہیں لیکن انہوں نے ان سمیت تمام بچوں کو اپنی مرضی کا کام کرنے کی اجازت دی۔نوشین شاہ کے مطابق جب وہ کالج میں گیارہویں جماعت کی طالبہ تھیں، تب وہاں ڈرامے میں کام کے لیے پروڈکشن ٹیم والے نئے چہرے تلاش کرنے آئے تھے، جن کی نظر ان پر پڑی۔ان کا کہنا تھا کہ پروڈکشن ٹیم نے کالج کی پرنسپل کو مجھے بلانے کا کہا اور پھر انہیں پرنسپل کے دفتر میں بلا کر ڈرامے میں کام کی پیش کش ہوئی اور انہوں نے سوچے سمجھے بغیر ہاں کردی۔
نوشین شاہ کا کہنا تھا کہ ڈرامے کی ٹیم نے انہیں کہا کہ وہ پہلے اپنے گھر والوں سے اجازت لیں، اس کے بعد وہ انہیں بتائیں، کام کرنے کے لیے انہیں پیسے بھی دیے جائیں گے۔اداکارہ کے مطابق انہوں نے ڈرامے کی ٹیم کو کہا کہ وہ والدین سے بات کرکے کل تک بتائیں گی لیکن انہوں نے والدین سے بات ہی نہیں کی اور اگلے روز ڈرامے میں کام کے لیے تیار ہوکر گئیں، انہوں نے سہیلی سے کپڑے لیے۔انہوں نے بتایا کہ ڈرامے میں ان کا کردار مختصر تھا، ان کی خوبصورتی دیکھ کر انہیں ڈرامے میں کام کی پیش کش ہوئی اور پھر انہیں مختصر کردار کے بھی تین ہزار روپے دیے گئے۔
نوشین شاہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے گھر والوں سے بات چھپائی لیکن جس دن ڈراما نشر ہوا، اس دن ان کی والدہ نے ان کی خوب پٹائی کی اور پھر والد نے بھی انہیں بلا کر ان سے پوچھا کہ انہوں نے ڈرامے میں کام کرنے سے متعلق انہیں پہلے کیوں نہیں بتایا؟ انہوں نے جھوٹ کیوں بولا؟اداکارہ کا کہنا تھا کہ والد ان کی اداکاری سے خفا نہیں ہوئے بلکہ ان کی جانب سے جھوٹ بولنے پر ناراض ہوئے اور انہیں کہا کہ انہیں جو بھی کام کرنا ہے، وہ کریں، انہیں کوئی شکایت نہیں لیکن بطور والد وہ انہیں جھوٹ نہ بولنے اور اچھے کام کرنے کے مشورے دیں گے۔اداکارہ کے مطابق انہوں نیزمانہ طالب علمی میں تقریبا 20سال قبل ڈرامے میں کام کیا تھا اور تب سے انہوں نے بہت ہی اچھے ڈراموں میں کام کیا۔